غزہ کا معرکہ اور مستقبل کے منظرنامے

اسرائیل درپیش حالات پر قابو پانے کیلئے حالیہ معرکے کو عالمی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کیلئے طوفان الاقصی کو اسرائیل اور خطے کا نائن الیون قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن چین سے مقابلہ بازی اور یوکرین جنگ کی روشنی میں امریکہ اور نیٹو کا اس معرکے میں شامل ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

فاران: 7 اکتوبر 2023ء کا دن مسئلہ فلسطین کی تاریخ میں مختلف پہلووں سے ایک اہم اور بے مثال دن ہے۔ اس دن غزہ کی پٹی سے طوفان الاقصی آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ غزہ کی پٹی 364 کلومیٹر مربع رقبے پر مشتمل ہے جبکہ وہاں 22 لاکھ کے لگ بھگ فلسطینی شہری آباد ہیں جس کی بنا پر یہ دنیا کا گنجان آباد ترین حصہ (ہر مربع کلومیٹر میں 6 ہزار افراد) تصور کیا جاتا ہے۔ انہی خصوصیات نے غزہ کی پٹی کو مغربی کنارے اور دیگر فلسطینی علاقوں کے مقابلے میں اسلامی مزاحمت کا مرکز اور اس مزاحمتی آتش فشان کا مرکز بنا ڈالا ہے۔ تاریخ میں سامنے آنے والے اسلامی مزاحمت کے اہم اور بنیادی لیڈران بھی اسی علاقے سے سامنے آئے ہیں جو دراصل ایک بڑا فلسطینی مہاجر کیمپ ہے۔ غاصب صیہونی رژیم نے 2007ء سے پوری غزہ کی پٹی کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ یہ وہی وقت تھا جب حماس بھرپور عوامی مینڈیٹ لے کر غزہ میں حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوئی۔

اس ناکہ بندی کا مقصد اسرائیل اور اس کی حامی مغربی طاقتوں کی جانب سے اسلامی مزاحمت کو شدید دباو کا شکار کر کے اپنے ساتھ سازباز پر یقین رکھنے والے فلسطینی دھڑوں کیلئے میدان عمل فراہم کرنا تھا۔ غزہ کی ناکہ بندی دنیا کی طویل المیعاد اور شدید ترین ناکہ بندی ہے۔ اس کے غزہ میں مقیم فلسطینیوں پر بہت ہی برے اثرات ظاہر ہوئے ہیں جن میں شدید بے روزگاری (80 فیصد سے زیادہ) بھی شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق 2008ء سے 2020ء کے درمیان صیہونی رژیم اور فلسطینیوں کے درمیان مختلف جنگوں میں 5590 فلسطینی شہید ہوئے ہیں جبکہ اس مدت میں صرف 251 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں عرب ممالک کے خلاف اسرائیل کو حاصل ہونے والی فوجی کامیابیوں کی بڑی وجہ اسرائیل کا طاقتور ہونا نہیں بلکہ عرب افواج کا شدید کمزور ہونا اور عرب حکمرانوں اور سیاسی رہنماوں کی غداری رہی ہے۔

مقبوضہ فلسطین میں جنم لینے والی انتفاضہ تحریکوں کے نتیجے میں اسرائیلی حکومت اور فوج کے کمزور ہو جانے نیز 2000ء میں لبنان اور 2005ء میں غزہ میں اسلامی مزاحمتی کاروائیوں کے نتیجے میں اسرائیل کی یکطرفہ اور غیر مشروط طور پر پسپائی اختیار کرنے اور آخرکار 7 اکتوبر کو شروع ہونے والے طوفان الاقصی آپریشن کی کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل فوج نہ صرف ناقابل شکست نہیں بلکہ منظم انداز میں مزاحمت اور محدود پیمانے پر اسلامی اور عرب ممالک کی حمایت سے اسرائیل کو شکست دے کر غیر مشروط طور پر پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ غزہ کے حالیہ عظیم معرکے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ معرکہ ایک چھوٹے سے علاقے (41 کلومیٹر لمبے اور 6 سے 12 کلومیٹر چوڑے) سے شروع ہوا۔

وہ بھی ایسے حالات میں جب غاصب صیہونی رژیم نے اپنے جاسوسی آلات اور نیٹ ورک کے ذریعے اسے مکمل طور پر اپنی نظر میں رکھا ہوا تھا اور زمین، فضا اور سمندر سے اس کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ ایسی صورتحال میں طوفان الاقصی جیسے پیچیدہ فوجی آپریشن کی تیاری اور منصوبہ بندی کی گئی جبکہ صیہونی رژیم کو اس کی خبر تک نہ ہو سکی۔ لہذا دنیا کے تمام سکیورٹی اور فوجی حلقے 7 اکتوبر کی صبح کو شروع ہونے والے اس فوجی آپریشن کو اسرائیل کیلئے بہت بڑی انٹیلی جنس اور فوجی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ طوفان الاقصی آرپریشن کی اسٹریٹجک اہمیت کا ایک اور پہلو اس کی جارحانہ نوعیت ہے۔ ماضی میں اسلامی مزاحمت کی تمام کاروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور اس معرکے میں پہلی بار فلسطین کی اسلامی مزاحمت نے کامیاب جارحانہ انداز اپنایا ہے۔

اس وقت اسرائیل اسلامی مزاحمت کے مقابلے میں ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جس کا ہر راستہ شکست پر ختم ہوتا ہے۔ اگر وہ غزہ میں زمینی کاروائی کا ارادہ کرتا ہے تو سرنگوں کے جال سے بھری غزہ کی پٹی اور گوریلا جنگ کی دلدل میں پھنس جائے گا۔ ایسی صورت میں اسے ایسا نقصان برداشت کرنا پڑے گا جس کے مقابلے میں حالیہ نقصان نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری طرف اگر وہ صرف غزہ پر فضائی بمباری تک ہی محدود رہتا ہے اور کوئی زمینی کاروائی انجام نہیں دیتا تو اسلامی مزاحمت کی طاقت جوں کی توں باقی رہے گی اور اسرائیل بھی خطے کی طاقت ہونے کا دعویدار نہیں رہ سکے گا۔ دوسری طرف فلسطینیوں کی ہر آنے والی نسل گذشتہ نسل سے بہتر انداز میں مزاحمتی تحریک اور جدوجہد کو آگے بڑھا رہی ہے جس کے نتیجے میں اب حماس محض ایک جہادی گروہ نہیں بلکہ غزہ پر حکمفرما نظام میں تبدیل ہو گیا ہے۔

اسرائیل درپیش حالات پر قابو پانے کیلئے حالیہ معرکے کو عالمی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کیلئے طوفان الاقصی کو اسرائیل اور خطے کا نائن الیون قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن چین سے مقابلہ بازی اور یوکرین جنگ کی روشنی میں امریکہ اور نیٹو کا اس معرکے میں شامل ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ طوفان الاقصی خطے اور دنیا کے سیاست دانوں کیلئے اس اہم پیغام کا حامل ہے کہ “جب تک ملت فلسطین کے بنیادی حقوق فراہم نہیں کئے جاتے پائیدار امن معرض وجود میں نہیں آ سکتا”۔ اسرائیل کی قومی سلامتی نامی چیز محض ایک وہم و خیال ہے۔ طوفان الاقصی نے اسرائیلی حکمرانوں کو زمینی حقائق سے آگاہ کیا ہے اور انہیں اس وہم و گمان سے نکالنے کی کوشش کی ہے جس کا وہ عرصے سے شکار ہیں۔