اسرائیل 7 اکتوبر سے پہلے اور اسکے بعد
فاران: طوفان الاقصی آپریشن نے جہاں اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی اندرونی کمزوری اور زبوں حالی کو عیاں کیا ہے وہاں عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ درحقیقت 7 اکتوبر کے دن القسام بٹالینز نے مقبوضہ فلسطین میں صیہونی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر حملہ کر کے اسرائیل کے مقابلے میں نئی مساواتیں رقم کر دی ہیں۔ طوفان الاقصی آپریشن کی منصوبہ بندی، عملی جامہ پہنانے اور اس کے پیچھے کارفرما حقیقی طاقت کے بارے میں آئندہ طویل عرصے تک تجزیات سامنے آتے رہیں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس آپریشن نے نہ صرف سرحدی دیوار کے قریب غاصب صیہونی رژیم کی فوجی تنصیبات کو نابود کیا ہے بلکہ ان خیالی قلعوں کو بھی نیست و نابود کر دیا ہے جو خطے کے ممالک نے اپنی غلط فہمیوں کی بنیاد پر صیہونی رژیم کی خیالی طاقت کے بارے میں تصور کر رکھے تھے۔
یوں طوفان الاقصی آپریشن نے صیہونی رژیم کی صورتحال کو 7 اکتوبر سے پہلے اور بعد میں تقسیم کر ڈالا ہے۔ سیاسی اور فوجی میدان میں غاصب صیہونی رژیم کی چند بڑی ناکامیاں درج ذیل ہیں:
1)۔ اس سوال نے جنم لیا ہے کہ جب اسرائیل اسلامی مزاحمتی بلاک کے ایک چھوٹے سے حصے یعنی حماس کا مقابلہ کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا اور ماضی کی طرح محض فضائی بمباری پر ہی اکتفا کر رہا ہے تو وہ دیگر اسلامی مزاحمتی قوتوں سے کیسے مقابلہ کر پائے گا؟
2)۔ طوفان الاقصی آپریشن کے بعد اسرائیلی حکام نے اسے اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ بیان کیا ہے اور حماس کا مقابلہ کرنے کیلئے طویل المیعاد جنگ کا اعلان کیا ہے۔ لہذا اسرائیلی حکمرانوں کی جانب سے حماس کو ایک بڑی طاقت کے طور پر قبول کیا گیا ہے جو اس کیلئے بہت بڑی فتح ہے۔
3)۔ طوفان الاقصی آپریشن نے تل ابیب کی دفاعی صلاحیتوں کی عدم افادیت اور ناکامی کو عیاں کر دیا ہے۔ اس سے پہلے بھی جب 2012ء میں اسرائیل کو حماس سے 8 روزہ جنگ میں شکست ہوئی تو اس نے امریکہ کی مدد سے فولادی گنبد نامی فضائی دفاعی نظام کو بہتر بنایا۔ اسی سال اسرائیل نے دعوی کیا تھا کہ اس نے غزہ سے فائر کئے گئے 400 راکٹس کا 85 فیصد حصہ فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔ اسی طرح 2021ء میں بھی صیہونی حکمرانوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے فولادی گنبد کی کارکردگی مزید بہتر بنائی ہے اور اب وہ ایک ہی وقت فائر کئے گئے میزائل اور ڈرون طیاروں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ مئی 2021ء میں حماس نے مقبوضہ فلسطین پر 4500 راکٹ فائر کئے اور صیہونی حکام نے دعوی کیا کہ فولادی گنبد کے ذریعے 90 فیصد راکٹ فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے ہیں۔
حالیہ طوفان الاقصی فوجی آپریشن میں حماس کی سب سے بڑی کامیابی اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کو شکست دینا ہے۔ حماس نے ایک ہی وقت ایک ہدف پر متعدد راکٹ داغ کر فولادی گنبد کی ناکامی کو عیاں کر دیا۔ طوفان الاقصی آپریشن کے شروع میں ہی حماس نے 20 منٹ میں 5 ہزار سے زیادہ راکٹ فائر کئے جن کی اکثریت اپنے نشانے پر لگی۔ روسی فوجی ماہر الیکسی لیونکوف کہتے ہیں: “حماس نے اسرائیل کی فضائی دفاعی طاقت کا بغور مطالعہ کیا اور بڑی تعداد میں راکٹ فائر کر کے فولادی گنبد میزائل ڈیفنس سسٹم کو کنفیوز کر دیا۔ جنگ کا اصول ہے کہ فضائی دفاعی نظام کی صلاحیت سے زیادہ میزائل فائر کئے جائیں۔ مثال کے طور پر اگر اسرائیل ایک وقت میں 200 راکٹوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو 400 راکٹ فائر کئے جائیں۔ حماس نے بھی پوری معلومات حاصل کرنے کے بعد حملہ انجام دیا۔”
4)۔ غاصب صیہونی رژیم نے حماس کا مقابلہ کرنے میں حقیقت پسندی کا ثبوت دینے کی بجائے شدت پسندی اور عام شہریوں کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کا سہارا لیا ہے۔ صیہونی حکام جنگی جرائم انجام دے کر حماس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ عالمی سطح پر ان غیر انسانی اقدامات کے باعث اسرائیل اپنی مشروعیت کھوتا جا رہا ہے۔
5)۔ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ وہ زمینی حملہ کر کے حماس کو ختم کر سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس حماس کی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں معلومات بہت ناقص ہیں۔ غزہ میں حماس نے زیر زمین سرنگیں بنا رکھی ہیں جن کے بارے میں اسرائیل کے پاس انٹیلی جنس نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دن کی مسلسل کوشش اور شدید مالی اور جانی نقصان برداشت کرنے کے باوجود اسرائیلی فوج ابھی تک غزہ میں محدود حد تک پیشقدمی بھی نہیں کر پائی۔
6)۔ سیاسی اور سماجی میدانوں میں بھی طوفان الاقصی آپریشن نے اسرائیل کو شدید متاثر کیا ہے۔ اسرائیل کا تشخص دو اہم بنیادوں پر استوار ہے۔ ایک صیہونزم اور دوسرا یہودیت۔ 1948ء میں اسرائیل کی ناجائز ریاست کا قیام دنیا بھر سے یہودیوں کو اکٹھا کر کے رکھا گیا۔ آج تک اسرائیلی معاشرہ چھوٹے چھوٹے جزیروں میں بٹا ہوا ہے اور ایک واحد قومی شناخت سے عاری ہے۔ گذشتہ دو عشروں میں ان سماجی فاصلوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اب 7 اکتوبر کے بعد اس میں مزید شدت آئی ہے جس کی بدولت صیہونی رژیم شدید سماجی، سیاسی اور سکیورٹی بحرانوں سے روبرو ہے۔
7)۔ عالمی سطح پر بھی 7 اکتوبر کے بعد صیہونی رژیم کی پوزیشن میں بہت فرق ظاہر ہوا ہے۔ طوفان الاقصی سے پہلے اسرائیلی حکمران عنقریب سعودی عرب اور دیگر سات اسلامی ممالک سے سفارتی تعلقات استوار ہونے کا عندیہ دے رہے تھے جس کا امکان اب تقریبا صفر ہو چکا ہے۔













تبصرہ کریں