غزہ جنگ دوسرے مہینے میں داخل،انٹرنیٹ بند، مزید قتل عام

غزہ کی پٹی میں غاصب صیہونی افواج کا ہولوکاسٹ دوسرے مہینے میں داخل ہوگیا ہے۔

فاران: دشمن کے طیاروں نے درجنوں تازہ حملے کیے، رہائشی آبادیوں پر بمباری کی۔ ان کے مکینوں کے سروں پر بمباری کی، ضروریات زندگی کو نشانہ بنایا اور کئی طرف سے زمینی حملہ کیا گیا۔

 

قابض فوج نے رات کو غزہ کا انٹر نیٹ بند کردیا جب کہ ایک گھنٹے سے کم وقت میں ایک سو سے زاید مقامات پر شدید بمباری کی گئی جس میں مزید دسیوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے۔

 

مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ قابض فوج کے جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں گھروں اور شہریوں کے محلوں پر درجنوں حملے جاری رکھے ہیں جس سے مزید تباہی اور ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ کئی بار پانی کے ٹینکوں اور بیکریوں جیسی ضروریات زندگی کو نشانہ بنایا ہے۔

 

ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض کے جنگی طیاروں نے گذشتہ رات الشاطی کیمپ پر شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں درجنوں شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو غزہ کے الشفا کمپلکس لایا گیا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق ہسپتالوں کے اطراف میں کی گئی بمباری میں  الزیتون الزيتون، الصبرة، الرمال، الرمال جنوبي، الشاطىء، السفينة، المشتل، مجمع أنصار، الشيخ عجلين، تل الهوى اور شہر کے دوسرے مقامات شامل ہیں۔

 

بیت لاہیا میونسپلٹی میں ایمرجنسی کمیٹی نے تصدیق کی کہ اسرائیلی قابض طیاروں نے جان بوجھ کر پانی کے کنوؤں اور ٹینکوں پر بمباری کی اور میونسپلٹی کی فراہم کردہ خدمات کو نقصان پہنچایا۔

 

غزہ میں دیر البلح کے مقام پر شہداء الاقصیٰ ہسپتال میں لائے گئے شہدآ کی تعداد پندرہ ہوگئی ہے۔

 

سات اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد دس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔

 

تیس ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ جب کہ شہداء اور زخمیوں میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔