’غزہ پر اسرائیلی جارحیت رکوانے کے لیے عالمی برادری حرکت میں آئے‘ حماس
فاران: اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے عالمی برادری، عرب ممالک اور عالم اسلام پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بند کرانے کے لیے فوری حرکت میں آئیں۔
حماس کی طرف سے جاری ایک بیان میں عرب ممالک اور عالم اسلام کے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری کارروائی کریں اور امریکی انتظامیہ پر جارحیت کو روکنے، کراسنگ کھولنے، امداد پہنچانے اور زخمیوں کو باہر نکلنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
یہ بات حماس کے رہ نماؤں باسم نعیم اور اسامہ حمدان نے جمعرات کی شام لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے بارے میں میڈیا میں بہت سی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس سمت میں کوششیں ہو رہی ہیں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی تک پہنچنے کے مقصد سے قطر اور مصر کے ساتھ بات چیت اور رابطے ہو رہے ہیں، جب معاہدہ طے پا جائے گا تو براہ راست اس کا اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کوششوں اور مکالموں کے باوجود غزہ میں ہمارے لوگوں کے خلاف قتل و غارت، تباہی اور نسل کشی کی صہیونی مشین مسلسل چل رہی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ قابض فوج نے غزہ شہر اور شمال کے بیشتر ہسپتالوں کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔ انڈونیشیا ہسپتال، القدس ہسپتال اور الناصر کمپلیکس پر بمباری کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دماغی صحت کے ہسپتال، آنکھوں کے ہسپتال اور بچوں کے ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا اب تک جن ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے ان کی تعداد 135 ہے اور ایسے ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کی تعداد جو سروس سے باہر ہوچکے ہیں ان کی تعداد 64 تک پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اب تک شہداء کی سرکاری تعداد 11 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور زخمیوں کی تعداد 27 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جو کہ ہسپتالوں کی گنجائش سے زیادہ ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پوری غزہ کی پٹی کو مسلسل بمباری اور بھوک اور پیاس کی منظم پالیسی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ غزہ شہر اور شمالی گورنری میں انسانیت کے سیاہ دور اور نازی دور کی یاد تازہ کی گئی ہے۔













تبصرہ کریں