صہیونی ریاست کی حالت حقیقی معنوں میں ابتر ہو گئی ہے / اسرائیل مغرب کے لئے تزویراتی عذاب بن گیا ہے؛ فنانشل ٹائمز
فاران: چند روز قبل امریکی اخبار فنانشل ٹائمز نے امریکہ کی طرف سے اپارتھائیڈ پر مبنی اسرائیل کی غیر مشروط اور لامحدود حمایت” کے بھاری اخراجات کے بارے میں لکھا ہے کہ اسرائیل نے اپنے تمام تر اقدامات کے پورے اخراجات امریکہ اور مغربی ممالک کے کندھوں پر ڈال رکھی ہے۔
اخبار نے لکھا: طے یہ پایا تھا کہ اسرائیل امریکہ کے لئے تزویراتی سرمائے کا کردار ادا کرے لیکن اب یہ امریکہ کے لئے تزویراتی عذاب بن گیا ہے۔
اس اخبار کا اشارہ غاصب اور جعلی ریاست کی ان لامحدود اور غیر مشروط حمایت کی طرف ہے جو امریکہ کی تمام ڈیموکریٹ اور ریپبلکن حکومتیں پابندی سے فراہم کرتی رہی ہیں اور ان میں بعض حمایتیں اس قدر رسوا کن، اور مغرب ہی کی اقدار اور قوانین سے اس قدر متصادم، ہیں کہ انہوں نے ان مغربی دنیا کے لئے کوئی ساکھ اور کوئی آبرو نہیں چھوڑی۔.
صورت حال یہ ہے ہارورڈ یونیورسٹی، کولمبیا یونیورسٹی، سٹینفورڈ یونیورسٹی سمیت امریکی تمام یونیورسٹیوں، یورپ میں فرانس اور اٹلی کی یونیورسٹیوں نیز ان ممالک کے عوام وسیع پیمانے پر غزہ میں اسرائیلی جرائم اور ان جرائم کی امریکی حمایت پر احتجاج کر رہے ہیں اور یہ احتجاجی سلسلہ اس قدر غیر معمولی اور بے مثل ہے کہ ناظرین اس کو انقلاب، تحریک اور بغاوت کا نام دے رہے ہیں۔ امریکی یونیورسٹیوں میں پولیس اور سیکورٹی کی بھاری نفری داخل ہورہی ہے، اساتذہ اور طلباء پر تشدد کرکے انہیں گرفتار کر رہی ہے اور اجتماعات اور دھرنوں کو کچل رہی ہے۔ دوسری طرف سے عالمی عدالت انصاف کی طرف سے بھی، صہیونی ریاست کے حکمرانوں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کو ہیں۔ امریکہ میں 75 سالہ ابلاغیاتی خاموشی کے بعد اب صہیونیوں کے خلاف بے دھڑک سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور صہیونی ریاست کے لئے یکطرفہ اخراجات برداشت کرنے کے معاملے کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔
چنانچہ اس وقت صہیونی ریاست اپنے غصب کے ان 75 برسوں کی بدترین صورت حال کا سامنا ہے، اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس کے حالات ابتر ہو رہے ہیں، جعلی ریاست کی صورت حال بحران زدہ ہے، چنانچہ جعلی ریاست اور غزہ کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ناظرین و مبصرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ غاصب ریاست کو جن بحرانوں کا سامنا ہے، اس سے پہلے کبھی بھی یہ ایسے بحرانوں سے دوچار نہیں ہوئی تھے اور کبھی بھی 33 یا 34 دنوں سے زیادہ کسی جنگ میں نہیں الجھی تھی۔
اس قسم کی نسل پرست اور دہشت گرد ریاست کے جرائم پیشہ حامی اس کی نجات کے لئے ہر قسم کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں، اور اس کی وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ “امریکہ لابیوں کا ملک ہے اور اس ملک کا انتظآم طاقتور لابیوں کے ہاتھ میں ہے اور یہودی لابی ان لابیوں میں سر فہرست ہے”، لیکن جب سے یہودی لابیوں نے کھل کر کام شروع کیا ہے امریکی معاشرہ امریکہ کو “ریاست ہائے متحدہ اسرائیل” جیسے القاباتسے نوازنے لگا ہے اور لگتا ہے کہ اس لابی کا کھیل بھی بہت عرصے تک نہیں چل سکے گا۔
صہیونی ریاست کا زوال نزدیک ہے، اور یہودی لابی امریکی سلطنت کے زوال میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
مصنف: جعفر بلوری
سورس: سوشل میڈیا













تبصرہ کریں