صہیونی ریاست کی فوج کا 7 اکتوبر کے متنازعہ “ہانیبال” حکم پر عمل درآمد کا اعتراف

صہیونی ریاست کی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کی اپنی داخلی تحقیقات میں اعتراف کیا ہے کہ اس روز ایک متنازعہ حکم کے تحت اسرائیلی شہروں کے باسیوں پر گولیاں چلائی گئیں، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوئے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: صہیونی ریاست کی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کی اپنی داخلی تحقیقات میں اعتراف کیا ہے کہ اس روز ایک متنازعہ حکم کے تحت اسرائیلی شہروں کے باسیوں پر گولیاں چلائی گئیں، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوئے۔
یاد رہے یہ ہدایت نامہ 1986 میں اس وقت تیار کیا گیا تھا جب حزب اللہ لبنان کے مزاحمتی گروہ نے اسرائیلی فوج کے دو اہلکاروں کو قید کر لیا تھا۔ اس حکم کے تحت اسرائیلی فوجیوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ اگر وہ اسیر ہونے والے ہوں تو اپنے ہی ساتھیوں پر گولی چلا دیں، کیونکہ ایک مردہ فوجی، زندہ قیدی سے بہتر تصور کیا جاتا ہے۔ اس پروٹوکول کے مطابق، دشمن کے ہاتھوں قید ہونے سے بچنے کے لیے اسرائیلی فوجیوں اور عام شہریوں کو مارنا جائز سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ اس حکم کو 2016 میں باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا گیا تھا، لیکن متعدد اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی مزاحمتی فورسز کے خصوصی آپریشن کے دوران اسرائیلی فوجی قیادت کے بیانات اور اقدامات اس پروٹوکول کے دوبارہ فعال ہونے کا اشارہ دیتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی داخلی تحقیقات، جن کے نتائج جمعرات کو شائع کیے گئے، ظاہر کرتے ہیں کہ 7 اکتوبر کو تقریباً 10:30 بجے اسرائیلی فضائیہ نے “ہر اس چیز” پر گولیاں برسائیں جو غزہ کی سرحد کے قریب حرکت کر رہی تھی۔
صہیونی پائلٹوں نے “شمشیرِ داموکل” نامی آپریشن انجام دیا، جس کا مقصد “غزہ کے اندر حماس کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانا” تھا۔ اسرائیلی فضائیہ نے مجموعی طور پر 945 حملے کیے، جبکہ اس کے ہیلی کاپٹروں نے 11 ہزار گولیاں برسائیں۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ “فوجی کمانڈروں کی طرف سے شکست کو تسلیم نہ کرنا” اور “کمانڈ سینٹر میں مکمل بد نظمی” اسرائیلی ردعمل کی تاخیر کی بڑی وجوہات تھیں۔
اسرائیلی اخبار جروزالم پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج کے کئی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ یہاں تک کہ آج بھی غزہ بریگیڈ کے کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل آوی روزنفلڈ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر سکتے ہیں کہ ان کی فورسز کو مکمل طور پر حماس نے شکست دی تھی، اور وہ اس حقیقت کو قبول نہیں کریں گے کہ یہ سب کچھ 7 اکتوبر کی صبح 7 بجے سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔
اسرائیلی فضائیہ نے صبح 10:05 بجے تک فیصلہ نہیں کیا کہ غزہ اور اسرائیلی سرحدی علاقے کو مکمل طور پر حملے کا نشانہ بنایا جائے، اور “ہانیبال پروٹوکول” کا نفاذ تقریباً 10:30 بجے شروع ہوا۔ اس رپورٹ کے مطابق، جب تک اسرائیلی کمانڈرز کو جنوبی فلسطین میں جاری واقعات کا “85 فیصد ادراک” ہوا، تب تک زیادہ تر فلسطینی مزاحمت کار اپنے یرغمالیوں کے ساتھ غزہ واپس جا چکے تھے۔
251 اسرائیلی قیدیوں میں سے بڑی تعداد اسرائیلی فضائی حملوں اور اپنے ہی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گئی۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کچھ ہفتے قبل اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو گالانٹ نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے فوج کو ہدایت دی تھی کہ وہ “ہانیبال پروٹوکول” کو نافذ کرے اور 7 اکتوبر کی کارروائی کے دوران اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو ہلاک کر دے تاکہ وہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔
اسرائیلی فوج کی داخلی تحقیقات نے اس حقیقت کی تصدیق کی ہے کہ 7 اکتوبر کو فوج مکمل طور پر ناکام رہی اور وہ اس حملے کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
اس سے قبل اسرائیلی اخبار ہاآرتص نے رپورٹ کیا تھا کہ “ہانیبال پروٹوکول” نے جنوبی مقبوضہ علاقوں کو “قتلِ عام زون” میں تبدیل کر دیا تھا۔
اخبار نے واضح کیا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں کو یہاں تک اجازت دی گئی تھی کہ وہ اپنے ہی فوجیوں اور شہریوں کو قتل کر دیں تاکہ وہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں قید ہونے سے بچ سکیں۔