یمن ہتھیاروں سے لیس ہؤا، فلسطین بھی ضرور ہوگا
فاران تجزیاتی ویب سائٹ: صہیونی ریاست چونکہ ایک غصب شدہ سرزمین پر قائم ہے چنانچہ اس کا وجود دو ستونوں پر استوار ہے [تھا]: “اسلحے کی طاقت” اور “دھوکہ دہی پر مبنی تشہیر”؛ لیکن آج یہ دونوں ستون متزلزل ہو چکے ہیں۔
حالیہ ہفتے کے دوران مقبوضہ سرزمین میں چار دنوں میں فلسطینیوں کی چار بڑی کاروائیوں میں درجن بھر صہیونیوں کی ہلاکت مختلف پہلؤوں سے غاصب ریاست کے قلب پر تزویراتی ضربیں سمجھی جاتی ہیں کیونکہ:
– صہیونی-یہودی حکام نے حال ہی میں شیخ نشین ریاستوں کے متعدد دورے کئے اور پھر نقب کے علاقے میں چار غدار ریاستوں کے وزرائے خارجہ کی موجودگی ميں ایک اجلاس منعقد کیا تاکہ دنیا کو یہ بتا سکیں کہ غاصب ریاست تزلزل اور عدم استحکام کا شکار نہیں ہوئی۔ یہ ایک سیاسی نمائش تھی جس کو انتہائی وسیع تشہیری مہم کے ذریعے کوریج دی گئی تاکہ حالیہ ایک سال کے دوران کی ناکامیوں کو چھپا سکیں۔ اور پھر انہیں تشویش تھی کہ انہیں شمالی اور جنوبی سرحدوں یا بحر ہند یا بحیرہ احمر کی طرف سے میزائلوں یا ڈرونوں کی یلغار کب اور کون سی ہوگی؟
– عراقی کردستان کے شہر اربیل کے نواح میں موساد کے ہیڈکوارٹر پر ایران کے میزائل حملے اور شام میں صہیونیوں کے ہاتھوں اسلامی جمہوریہ ایران کے دو اعلی فوجی افسران کی شہادت کے کے بعد ان کا بدلہ لینے پر ایران کی تاکید کی بنا پر صہیونیوں کے اندرونی حلقوں میں یہ اندازے لگائے جا رہے تھے کہ کوئی نیا میزائل یا ڈرون حملہ ضرور ہوگا لیکن وہ یہ اندازہ لگانے سے قاصر رہے کہ انہیں فلسطین کی گہرائیوں میں فلسطینی مجاہدوں کے ہاتھوں سلسلہ وار اور ہلاکت خیز کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
– ان کارروائیوں کی اہمیت، اولاً، ان کی تکرار اور دہراؤ میں اور ثانیاً آتشیں اسلحے کے استعمال میں اضافے اور زیادہ صحیح نشانوں کے انتخاب کی صلاحیت اور دشمن کی ہلاکتوں میں اضافہ۔ تل ابیب اور بیت المقدس میں غیرمعمولی فوجی اور سیکورٹی انتظامات بےمثل دھچکہ لگایا گیا حالانکہ غاصب اسرائیلی ریاست کے حکام “معاہدہ ابراہیم” اور “نقب اجلاس” جیسے ابلاغیاتی سیاسی نمائشوں کے ذریعے حالات کو معمول پر دکھانا چاہتے تھے۔
– عین اس وقت جب فوجی بغاوت کے نتیجے میں قائم مصر کی آمرانہ حکومت کی طرح کی کٹھ پتلی حکومتیں بشمول جزیرہ نمائے عرب کی سعودی حکومت، متحدہ عرب امارات کی نہیانی حکومت اور بحرین کی خلیفی حکومت امریکہ کے حکم پر، مسئلہ فلسطین اور مزاحمت کے خاتمے کے لئے غاصب اسرائیلی ریاست کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے کوشاں تھے! الخضیرہ، بیت المقدس اور تل ابیب میں بے مثل کاروائیوں نے ثابت کیا کہ اسلامی مقاومت فلسطین کی گہرائیوں (یعنی 1948ع کے مقبوضہ علاقوں) تک مسلحانہ جدوجہد کے کامیاب اور مقبول مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
– آخری کاروائی – حال ہی میں صہیونی ریاست کے عقوبت خانوں میں کئی سال تک صعوبتیں جھیلنے کے بعد رہا ہونے والے الفتح تنظیم کی مسلح شاخ “شہدائے الاقصی بریگیڈز” کے 26 سالہ رکن – شہید ضیاء حمارشہ نے انجام کو پہنچائی۔ یہ کاروائی اس قدر اہم تھی کہ بن یامین نیتن یاہو نے کہا: “اسرائیل کو انتہائی خطرناک اور بے مثل حملوں کی ایک لہر کا سامنا ہے”۔
– اس میں شک نہیں ہے کہ چند خائن اور غدار حکومتوں کے ساتھ آنے جانے کا صہیونی عمل، اس خوف و ہراس کا ازالہ نہیں کرسکے گا جو اس وقت قابضوں اور غاصبوں کے دل و جان پر سایہ فگن ہے۔ کسی وقت غزہ کے سوا دوسرے علاقوں میں آتشیں اسلحہ ناپید ہوتا تھا لیکن آج ایک سے زیادہ مرتبہ ثابت ہؤا ہے کہ آتشیں اسلحہ نہ صرف مغربی پٹی میں موجود ہے بلکہ بیت المقدس اور تل ابیب میں اس کی کوئی کمی نہیں ہے۔
– کچھ عرصہ بعد صہیونی دشمن کی قید و بند سے رہا ہونے والے اسکول ٹیچر “شیخ فادی ابو شخیدم” مسجد الاقصیٰ کے قریب ایک بے مثل اور کامیابی کاروائی کی تھی۔ ان تمام کاروائیوں کا مشترکہ طرہ امتیاز یہ ہے کہ سب “استشہادی کاروائی” [یا شہادت پسندانہ] کاروائیاں ہیں۔
– اب اسلحہ ایسے علاقوں میں بھی پہنچا ہے جو عشروں سے فوجی چھاؤنی کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی شدید نگرانی ہوتی تھی اور یہ رہبر معظم امام سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے تزویراتی رہنما خطوط کا بتدریج نفاذ ہے، جنہوں نے چند سال قبل فرمایا تھا:
“یہ ہمارا یقین ہے کہ مغربی پٹی کو بھی غزہ کی طرح ہتھیاروں سے لیس ہونا چاہئے۔ جو لوگ فلسطین کے مقدرات میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہ اگر کچھ کام کرنا چاہیں تو وہ کام یہی ہے کہ مغربی پٹی میں بھی لوگوں کو ہتھیاروں سے لیس کریں؛ وہ واحد چیز جو فلسطینیوں کے رنج و مصیبت کو کم کرسکتی ہے وہ یہی ہے کہ وہاں کے لوگ کے پاس طاقت ہو اور طاقت کا مظاہرہ کر سکیں؛ ورنہ تو بے حد فرمانبردارانہ اور تابعدارانہ انداز سے خفیہ ملی بھگت کرکے، کوئی بھی کام فلسطینیوں کے میں انجام نہیں دیا جا سکے گا”۔
– ان دنوں ہم ایک انتہائی عظیم واقعے کی رونمائی کے عینی گواہ ہیں، اور سعودی جرائم پیشہ حکمرانوں نے سات سالہ جرم و ظلم کے بعد یمن کی مسلح مقاومت کے سامنے ہاتھ اٹھا لئے ہيں؛ چنانچہ یہ توقع بالکل بجا ہے کہ بہت جلد اسی طرح کا ایک مبارک واقعہ فلسطین اور فلسطینیوں کے حق میں بھی دہرايا جائے گا۔
– جس خدا نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے شاہی محل میں بسایا اور اس غرض سے انہیں پروان چڑھایا کہ ایک دن اس کی ظالمانہ حکمرانی کی بساط لپیٹ لیں؛ اور جس خدا نے نہتے اور قلعہ بند یمن کو تباہ کن میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے لیس فرمایا، وہی خدا اپنے مؤمن بندوں کے توسط سے تباہ کن ہتھیاروں کو مقبوضہ فلسطین کے قلب تک بھی پہنچا سکتا ہے، جو ان شاء اللہ حیفا، تل ابیب اور بیت المقدس میں صہیونیوں کی بساط لپیٹ لیں کے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔













تبصرہ کریں