مقبوضہ بیت المقدس میں مسیحی املاک پر قبضے کیخلاف یورپی یونین کو تشویش

یورپی یونین کے نمائندہ دفتر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ''یہودی آباد کاروں کے اس قبضے کی کوشش کو ضرور روکا جانا چاہیے۔  یورپی یونین کے بقول  مسیحیوں کی املاک پر اس  قبضے سے مسیحیوں کی املاک ہی نہیں ورثہ اور روایات بھی خطرے میں ہیں۔ ''

فاران: فلسطینی علاقے میں قائم یورپی یونین کے دفتر کی جانب سے اس امر پر اظہار تشویش کیا گیا ہے کہ یہودی آباد کاروں کے ایک گروہ نے یونانی آرتھو ڈاکس کی املاک پر قبضہ کر لیا ہے۔ یورپی یونین کے دفتر کے مطابق یہ مسیحی جائیدادیں مشرقی یروشلم میں واقع ہیں۔

یورپی یونین کے نمائندہ دفتر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ”یہودی آباد کاروں کے اس قبضے کی کوشش کو ضرور روکا جانا چاہیے۔  یورپی یونین کے بقول  مسیحیوں کی املاک پر اس  قبضے سے مسیحیوں کی املاک ہی نہیں ورثہ اور روایات بھی خطرے میں ہیں۔ ”

واضح رہے آٹھ جون کو اسرائیلی سپریم کورٹ نے یونانی آرتھو ڈاکس مسیحیوں کی جانب سے دائر کردہ اپیل بھی مسترد کر دی ہے۔ جو مسیحیوں نے یہودی آباد کاروں کی تنظیم کا یہ ناجائز قبضہ روکنے کے لیے کی تھی۔ اس اپیل کے مسترد کیے جانے کے بعد طویل عرصے سے کرایہ دار چلے آنے والے فلسطینیوں کی بے دخلی کا بھی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

یورپی یونین کے نمائدہ دفتر کے لیے تشویشناک پہلو یہ بھی ہے  کہ یہودی آبادکاروں کے  ناجائز قبضے کے خلاف اسرائیلی سپریم  کورٹ نے بھی مسیحی اپیل مسترد کر دی ہے۔’ نمائندہ دفتر کے مطابق اس عدالتی فیصلے کے بعد  یہودی آباد کاروں کی جانب سے مسیحیوں کی  یروشلم میں دیگر املاک  کے لیے بھی قبضے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔  اس صورت حال پر یورپی یونین کے یروشلم اور رام اللہ میں دفاتر نے گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ  کے فیصلے نے اس قدیمی شہر میں مسیحیوں کی املاک کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔”

یورپی یونین کے نمائندوں نے یہودی آباد کاروں کی ان ناجائز قبضوں کی کامیابی کو یروشلم میں تینوں مذاہب کے تاریخی وجود کو ہی خطرے میں ڈال دینے پر بھی فکر مندی ظاہر کی ہے۔ یورپی یونین نے قرار دیا ہے کہ ان حالات میں مذاہب کے درمیان توازن قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔”