ایک سال میں صہیونیوں پر مقاومت کی 8650 ضربیں

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: جرئت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ گذشتہ دو عشروں میں امریکہ اور صہیونی کسی بھی میدان میں فتح و کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سیاسی تشہیری مہم کے ذریعے یہ جتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا تمام معاملات کا فیصلہ اب […]

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: جرئت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ گذشتہ دو عشروں میں امریکہ اور صہیونی کسی بھی میدان میں فتح و کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سیاسی تشہیری مہم کے ذریعے یہ جتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا تمام معاملات کا فیصلہ اب بھی ان ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اور جو انہیں سیاہ و سفید کا مالک سمجھتے ہیں وہ بھی “چونکہ حقائق کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے”، ان کے پرانے دعؤوں کا سہارا لیتے ہیں۔
ان لوگوں کے خیال میں امریکہ اب بھی بالادست طاقت ہے اور اسرائیلی ریاست اب بھی دنیا کی چوتھی بڑی فوجی طاقت ہے اور دنیا کے تمام معاملات کے فیصلے ان کے ہتھیاروں کے سائے میں ہوتے ہیں! حالانکہ اگر آس پاس نظر دوڑائیں تو تو ان کی طاقت سے دھوئیں کی ایک لکیر کے سوا کچھ بھی نہیں رہا ہے۔ امریکہ جو انتہائی ذلیلانہ انداز سے افغانستان سے بھاگ چکا ہے اور 20 سالہ فوجی اخراجات کو کچھ حاصل کئے بغیر ترک کر چکا ہے، اب بھی اسلامی جمہوریہ کو شکست دینے کے قابل ہونے کا دکھاوا کرتا ہے، حالانکہ اسلامی جمہوریہ کی طاقت کا صرف ایک جزء افغانستان کے پاس تھا جس نے امریکہ کو مار بھگایا۔
صہیونی ریاست جب میڈرڈ کانفرنس (سنہ 1991ع‍) اور اوسلو معاہدے (سنہ 1993ع‍) کے بادے سے مست تھی – اور جس وقت کسی بھی عرب ملک میں غاصب ریاست کے خلاف کوئی مقاومت و مزاحمت نہیں پائی جاتی تھی، – پھر بھی اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی اور استحکام کے لئے 30 سالہ کوششوں میں ناکام ہوکر 6 میٹر کی اونچی کنکریٹ کی دیوار کی پناہ لینے پر مجبور ہوئی اور حالیہ جنگ (سیف القدس) میں مقاومتی تحریکوں سے جنگ بندی کی بھیک مانگتی رہی، اور اب وہی ریاست دکھاوا کر رہی ہے کہ گویا ایران کے ساتھ لڑنے بھڑنے کے لئے تیار ہے!
اس سلسلے میں کچھ حقائق کو نمایاں کرنا ضروری ہے:
1۔ امریکی حکومت اندرونی انتشار و انقسام کے لحاظ سے اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گذر رہا ہے۔ سنہ 2020ع‍ کے متنازعہ صدارتی انتخابات حکمرانی کے خلا (Governance Gap) پر منتج ہوئے ہیں۔ مبینہ منتخب حکومت کے مسلح مخالفین کا کئی گھنٹوں تک کانگریس ہآؤس (Capitol) پر قبضہ کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت اور 560 پولیس اہلکاروں سمیت 1500 افراد کا زخمی ہونا، 800 افراد کی گرفتاری، امریکی صورت حال کی طبی علامات تھیں جو بعدازاں جاری رہیں جبکہ صدر اور نائب صدر کی تقریب حلف برداری کے اختتام سے پہلے ہی موجودہ انتظآمیہ سنہ 2024ع‍ کے صدارتی انتخابات کے ڈراؤنے خوب میں مبتلا ہوئے تھے۔ اس اثناء امریکی محکمہ دفاع (Pentagon) طویل مذاکروں اور اجلاسوں کے باوجود امریکہ کے منقسم معاشرے میں – بالخصوص سیاسی دھڑوں کے باہمی تنازعات کی صورت میں – اپنی حتمی ذمہ داری کا تعین نہیں کر سکا ہے۔
رائے شماریوں میں ایک ہی طرح کے سوالات کو امریکی شہریوں کے جوابات بری طرح دوہرے پن کا شکار ہیں۔ ایک سروے میں 74% ووٹوں کے ساتھ یوکرین کی جنگ میں امریکہ کی شرکت کی مخالفت کی جاتی ہے اور اسی طرح کی دوسری رائے شماری میں 64% امریکی روس کو سب سے خطرناک دشمن قرار دیتے ہیں! ایک ہی قسم کے سوالات کے جواب میں یہ اختلاف اس معاشرے کی بے چینی، الجھاؤ اور تناؤ کی عکاسی کرتا ہے، جو بنیادی طور پر اس ملک کے رہنماؤں پر اعتماد کے فقدان کی علامت ہے۔
امریکی آمدنی کی شرح اس کے واجب الادا قرضوں کی شرح کے برابر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نئی سرمایہ کاریوں سے عاجز ہے، اور اپنے موجودہ ڈھانچوں کی تعمیر نو پر بھی قادر نہیں ہے۔ 2020 کے انتخابی مناظروں میں بائڈن نے کہا کہ امریکی ماحولیات کی صورت حال کی اصلاح کے لئے 1000 ارب ڈالر سرمائے کی ضرورت ہے تو ٹرمپ نے پوچھا: اتنی رقم کہاں سے لاؤگے؟ اور بائڈن کوئی واضح جواب نہ دے سکے اور کہا: “عوام یہ رقم ادا کریں گے!”
چنانچہ جب یوکرین کو سلامتی بحران پیش آیا اور ایندھن کی مختلف اقسام کی قیمت 70٪ سے بھی بڑھ گئی تو بائڈن نے امریکی سرخ لکیروں اور مبینہ اصولی پالیسیوں کو پامال کرتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے وینیزوئلا کی اس حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا جسے واشنگٹن تسلیم نہیں کر رہا تھا اور اس پر ہمہ جہت پابندیاں مسلط کر چکا تھا!
حالیہ ایک سال کے دوران، خاص کر یوکرین کے بحران کےبعد، ڈالر – جو امریکی بالادستی اور تسلط کی علامت ہے – ایشیائی کرنسیوں کے ساتھ سنجیدہ مسابقت کے میدان میں آیا۔ روس نے اعلان کیا کہ روسی تیل اور گیس کے خریداروں کو اپنی خریداری کی قیمت روبل میں ادا کرنا ہوگی، امریکہ کچھ بھی نہ کر سکا اور جرمنی نے بھی – جو روسی مطالبے کی مزاحمت میں پیش پیش تھا – روسی کرنسی کو ڈالر اور یورو کے متبادل کرنسی کے طور پر عملا قبول کر لیا۔
امریکہ سیاسی میدان میں بھی ابھی تک روس کے خلاف مغربی بلاک کے ممالک کا طاقتور اتحاد تشکیل دینے میں ناکام رہا ہے۔ اور آخر کار بائڈن نے کسی ملک کا نام لئے بغیر اعلان کیا کہ انھوں نے روس پر پابندیاں لگانے کے لئے 20 ممالک کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ یہ 20 ممالک کتنے طاقتور اور مؤثر ہیں یہ بالکل نہیں معلوم کیونکہ ان کے نام سامنے نہیں آئے ہیں۔
یوکرین کا بحران اور روس کا اس جنگ میں الجھنا، امریکہ اور یورپ کے لئے ایک خاص موقع سمجھا جاتا ہے۔ ولادیمیر پیوٹن کے دور میں روس کی اقتصادی، فوجی اور سیاسی بحالی کے برسوں بعد، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو گہری تشویش تھی۔ جب جنگ شروع ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا کہ پیوٹن پھنس گئے ہیں اور ان کے لئے اب اپنا گریبان مغرب کے ہاتھ سے چھڑانا ناممکن تھا۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ روس اپنی تمام تر صلاحیتوں اور طاقت کے باوجود “سوویت اتحاد” سے زیادہ طاقتور نہیں ہے۔
لیکن دوسری طرف سے بھی ایک موٹا سوال اٹھتا ہے اور وہ یہ کہ کیا امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی عسکری لحاظ سے سرد جنگ کے دور (سنہ 1945ع‍ -1991ع‍) کی پوزیشن میں ہیں؟ بہت سے تجزیہ نگار – جن میں سے بعض کچھ لوگ کچھ عرصہ سفارتکار بھی تھے – اس سوال کا جواب دیئے بغیر روس، اور یوکرین کی جنگ کا جائزہ لینے بیٹھے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ روسی وفاق سوویت اتحاد سے زیادہ طاقتور نہیں ہے لیکن اس قصے کا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی کا مغرب بیسویں صدی کے مغرب سے “بہت زیادہ کمزور” ہے۔ چنانچہ عین ممکن ہے کہ روس اس جنگ میں کامیاب ہوجائے یا پھر ناکام ہوجائے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مغرب کی کامیابی مطلقا ممکن نہیں ہے۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی وجہ سے نیٹو زیادہ طاقتور اور متحدہ ہوگئی ہے لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ نیٹو شام کے بحران کے لئے فوجی اور سیاسی [بنام انسداد دہشت گردی] اتحاد اتحاد قائم کرکے بھی اسے اس نقطے تک نہیں پہنجا سکی ہے جہاں وہ اسے پہنچانا چاہتی تھی۔
نیٹو افغانستان میں امریکی جارحین کے دوش بدوش ایساف (International Security Assistance Force [ISAF]) نامی اتحاد کے سانچے میں لڑ رہی تھی لیکن سنہ 2015ع‍ میں کچھ بھی کرنے سے عاجزی کی بنا پر افغانستان سے نکل کر چلی گئی۔ یہ وہی نیٹو ہے؛ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار فوجی بحران کسی دور افتادہ علاقے میں نہیں بلکہ یورپ کے اندر اٹھ کھڑا ہؤا ہے اور اس کا مرکز و محور – دونوں فریق – یورپی ہیں۔ اور پھر بھی فرق یہ ہے کہ اس بار نیٹو اور مغرب کا فریق مقابل طالبان جیسی تزویراتی ہتھیاروں سے محروم نسبتا چھوٹی قوت یا شام کی دشمنوں میں محصور حکومت نہیں بلکہ روسی وفاق اور جدیدترین تزویراتی ہتھیاروں سے لیس سرخ فوج (Red Army) ہے۔
اب مزید بات یورپ سے دور کسی مسلم ملک میں 20 سالہ جنگ کے بارے میں نہیں ہے کہ جرائم پیشہ اور لالچی یورپی ممالک انہیں اپنے ہتھیاروں کی منڈی میں تبدیل کریں۔ اب بات یورپ کے اندر کی وسیع و عریض جنگ کی بات ہے، جہاں یورپی ہتھیار بیچنے کی بات نہیں ہو سکتی اور ہتھیاروں کے جو تحائف یوکرین کو دیئے جا رہے ہیں ان کی بھی کوئی حد ہے چنانچہ یورپ طویل عرصے تک یوکرین کا ساتھ نہیں دے سکے گا کیونکہ اس جنگ کے اخراجات ان کی برداشت سے بالاتر ہیں۔ چنانچہ ہم نے حال ہی میں برطانوی، فرانسیسی، جرمن اور اطالوی حکام کو یوکرین کے دارالحکومت کی یاترا کرتے دیکھا؛ اور یہ دورے جو بھی ہوں ان کا مقصد کم از کم جنگ کو وسعت دینے کی مشاورت نہیں ہے۔
2۔ صہیونیوں کا دعویٰ ہے کہ مہ امریکہ اور بعض عرب ممالک کے ساتھ اتحاد بنا کر ایران کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، لیکن وہ ایران سے اپنے اور امریکہ، سعودیہ، امارات وغیرہ کے خوف پر غلبہ پانے سے عاجز ہیں۔ تقریبا ایک ماہ قبل سینٹکام کے کمانڈر نے سینٹ کی سماعت کے دوران صراحت کے ساتھ کہا: “ہم سپاہ پاسداران پر قابو پانے سے عاجز ہیں” اور چند ہی مہینے پہلے متحدہ عرب امارات ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی وفد نے تہران کے دورے میں علی الاعلان کہا کہ “متحدہ عرب امارات کسی بھی ایران مخالف اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا”، اور سعودیہ کو بھی – جو یمن کی جنگ کے زخم چاٹ رہا ہے اور اپنی سلامتی کی صورت حال کی بہتری چاہتا ہے – بغداد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور مکمل کر چکا ہے۔ چنانچہ تل ابیب کے ہاتھ بھی خالی ہیں اور دعوے بھی ہمیشہ کی طرح کھوکھلے۔
جعلی صہیونی ریاست کو سنہ 2021ع‍ میں مغربی کنارے، جنین اور دوسرے فلسطینی علاقوں میں فلسطینی مقاومت کے مجاہدین کی طرف سے 10850 جہادی کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جن میں سے صرف 2200 حملوں کو صہیونی اداروں نے ناکام بنایا اور باقی کاروائیاں کامیابی سے مکمیل ہوئیں۔ سنہ 2022ع‍ کی ابتداء سے جون کے مہینے تک فلسطینی مجاہدین نے صہیونیوں کے خلاف 3693 مسلحانہ کاروائی کی ہیں یوں صہیونی فوجیوں کو اوسطا ہر روز 10 جہادی کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سنہ 2021ع‍ میں مجموعی طور پر فلسطینی مجاہدین نے غاصب یہودی آبادکاروں کے خلاف 1094 کاروائیاں کیں۔ حالیہ چند مہینوں میں (رمضان المبارک کے بعد سے) کم از کم 30 صہیونی فوجی مقاومتی کاروائیوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ سنہ 2021ع‍ کے دوران صہیونیوں کے اسلحہ خانوں سے کم از ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اسلحہ فلسطینی مجاہدین کے ہاتھ لگا۔ صہیونی فوج کے جوائنٹ اسٹاف کے سربراہ کے مطابق صہیونی فوجیوں کے درمیان منشیات کا رواج فوجی مراکز، چھاؤنیوں اور اسلحہ خانوں سے ہتھیاروں کی فلسطینیوں کو منتقلی کی بنیادی وجہ ہے۔
حالیہ تین چار سالوں کے دوران صہیونی ریاست کو چار مرتبہ پارلیمانی انتخابات منتعقد کرانا پڑے ہیں اور ان ہی دنوں چوتھی پارلیمان (کنیسٹ) بھی تحلیل ہو چکی ہے اور نفتالی بینیٹ (وزیر ا‏عظم) اور یائیر لاپید (وزیر خارجہ) کا اتحاد ایک نازک دھاگے سے بندھا ہؤا ہے اور اگر اس اتحاد کا ایک رکن بھی استعفا دے تو یہ ٹوٹ جائے گا۔ اب یہ ریاست – جسے 10850 کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، رائے عامہ کو منحرف کرنے کی غرض سے ایران میں اپنی خیالی خفیہ کاروائیوں کی توہماتی تصویر کشیوں میں مصروف ہے، حالانکہ ان تمام کاروائیوں کے شہداء کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کم ہے؛ جبکہ گذشتہ ایک سال کے دوران صہیونی ریاست کے 30 اہم عناصر – جن میں چار اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل تھے اور ان مین سے ایک تل ابیب کے اندر ہی تھا – فی النار و السقر ہوچکے ہیں۔
اسی ایک سال کے عرصے میں جعلی اسرائیل کا جدید ترین اسلحہ بنانے والا سب سے بڑا کارخانہ پوری طرح جل کر ویران ہو گیا اور غاصب ریاست کے دفاعی وسائل اس عظیم کارخانے کی حفاظت سے عاجز رہے۔
نطنز میں ایک سرنگ کو دھماکے سے اڑایا جاتا ہے یا کرج کی جوہری یونٹ کے ایک حصے میں تخریب کاری ہوتی ہے تو صہیونی ریاست فورا ذمہ داری قبول کرکے پردیس میں شیخیاں بگھارنے لگتی ہے، گویا اس کو اپنے کارخانوں، حکومتی اداروں، فوجی مراکز، بندرگاہوں میں اور سائبر اسپیس پر اپنی شرمناک شکستیں نظر تک نہیں آتیں جبکہ جو نقصانات وہ ایران کو پہنچاتا ہے وہ ان نقصانات سے ایک سو گنا چھوٹے اور کم ہیں جو اس کو ایران کی طرف سہنا پڑتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: ڈاکٹر سعد اللہ زارعی، علامہ طباطبائی یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ نگار