عراقی فضائی کمپنی اور اسرائیلی کمپنی کے درمیان معاہدے کا انکشاف

ایک عراقی رکن پارلیمنٹ نے عراقی مالیاتی کنٹرول اور سالمیت کے اداروں سے عراقی شہری ہوابازی کے خلاف قانونی اقدامات کرنے، قابض ریاست سے منسلک سکیورٹی کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

فاران: ایک عراقی رکن پارلیمنٹ نے عراقی مالیاتی کنٹرول اور سالمیت کے اداروں سے عراقی شہری ہوابازی کے خلاف قانونی اقدامات کرنے، قابض ریاست سے منسلک سکیورٹی کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

عراقی “السامریہ نیوز” ویب سائٹ کے مطابق عراقی پارلیمنٹ کی ایک رکن عالیہ نصیف نے انکشاف کیا کہ “عراقی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سکیورٹی پروٹیکشن کنٹریکٹ بزنس انٹیل کمپنی کے حوالے کر دیا ہے۔اس کمپنی کے اسرائیل سے روابط ہیں۔”

نصیف نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہوائی اڈے کے دروازے کو دشمن کی انٹیلی جنس کے سامنے کھول دیا گیا۔

گذشتہ مئی عراقی پارلیمنٹ نے اکثریت سے “اسرائیل” کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرتے ہوئے ایک بل منظور کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا یا اس کے ساتھ تعلقات استوار کرنا جرم تصور کیا جائے گا۔

اس مسودے میں سفارتی، سیاسی، فوجی، اقتصادی، ثقافتی یا کسی اور قسم کے تعلقات قائم کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والے کسی بھی عراقی کے لیے عمر یا عارضی قید کی سزا بھی مقرر کی گئی ہے۔