فلسطینی قیدی نے اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتال معطل کردی

چونتیس سالہ عماد نے اپنے والد اور بھائیوں سے جیل میں ملاقات پر عاید پابندی کے خلاف بہ طور احتجاج شروع کی تھی۔انہوں نے جیل انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کے والد جمال ابو الھیجا اور دو بھائیوں عبدالسلام اور عاصم کو ان سے ملنے کی اجازت دے، تاہم صہیونی انتظامیہ ٹال مٹول سے کام لے رہی تھی۔

فاران: اسرائیلی جیل میں قید ایک فلسطینی شہری عماد ابو الھیجا نے احتجاجا شروع کی گئی بھوک ہڑتال معطل کردی ہے۔

چونتیس سالہ عماد نے اپنے والد اور بھائیوں سے جیل میں ملاقات پر عاید پابندی کے خلاف بہ طور احتجاج شروع کی تھی۔انہوں نے جیل انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان کے والد جمال ابو الھیجا اور دو بھائیوں عبدالسلام اور عاصم کو ان سے ملنے کی اجازت دے، تاہم صہیونی انتظامیہ ٹال مٹول سے کام لے رہی تھی۔

گذشتہ روز صہیونی جیل انتظامیہ کی طرف سے عماد کو بتایا کہ ان کے والد اور بھائیوں کو آئندہ ماہ ان سے ملاقات کرانے کی اجازت دی جائے گی۔

عماد ابو الھیجا اس وقت مجد جیل میں قید ہیں۔ یہ ایک صحرائی جیل ہے جہاں شدید گرمی پڑتی ہے۔

جمال ابو الھیجا غرب اردن میں حماس کے رہ نما ہیں۔ ان کے تین بیٹے عماد، عاصم اور عبدالسلام اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں اور انہیں فلسطینی تحریک آزادی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔