انتہا پسند یہودیوں کا قبلہ اول پرتاریخ کی سب سےبڑی دراندازی کا منصوبہ

انتہا پسند تنظیم "دی ٹیمپل ماؤنٹ ہمارے ہاتھ میں ہے" نے پورے مقبوضہ فلسطین سے آباد کاروں کو آمدورفت کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔

فاران: مسجد اقصیٰ کی جگہ مبینہ “ہیکل” کی تعمیر کے نعرے تلے جمع انتہا پسند یہودی تنظیموں نے اس ماہ کے آخر میں، نام نہاد “عبرانی سال” کے موقع پر مسجد اقصیٰ پر سب سے بڑے دھاوے کے لیے اپنے حامیوں کو متحرک کرنا شروع کیا۔

انتہا پسند تنظیم “دی ٹیمپل ماؤنٹ ہمارے ہاتھ میں ہے” نے پورے مقبوضہ فلسطین سے آباد کاروں کو آمدورفت کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔ یہ دھارے آئندہ چھٹیوں کے موسم میں الاقصیٰ پر بولے جائیں گے۔

مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کے لیے آباد کاروں کی نقل و حرکت پیر اور منگل 26 اور 27-9-2022 کو شروع ہونے والی ہے۔

دوسری جانب مسجد اقصیٰ میں رباط کو متحرک اور تیز کرنے کے لیے فلسطینی اپیلیں شروع کی گئیں۔ ان اپیلوں میں فلسطینیوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ قبلہ اول کےدفاع اور انتہا پسند یہودیوں کے دھاوے روکنے کے لیے متحد ہوں اور قبلہ اول میں اپنی حاضری کو یقینی بناتے رہیں۔

فلسطینی مذہبی شخصیات اور تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے ایام مسجد اقصیٰ کے خلاف تصفیہاتی جارحیت کی ایک بڑی لہرلائیں گے۔ ان میں دراندازی اور صور پھونکنا، رقص اور مسجد کی بے حرمتی شامل ہے۔ان تمام ہتھکنڈوں کا مقصد قبلہ اول کو یہودیانے کی سازشیں کرنا ہے۔

قابض ریاست کے منصوبوں کے مطابق 26 اور 27 ستمبر کے دوران نام نہاد “عبرانی نئے سال” کے دوران ہیکل گروپس بابرکت مسجد اقصیٰ میں کئی بار دھاوا بولنےکی کوشش کرتے ہیں۔