رائے الیوم؛ “اسرائیل” کی نابودی یقینی ہے
فاران: فارس بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صیہونی عبوری حکومت تیسرے فلسطینی انتفاضہ سے خود کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے اور یہاں تک کہ فلسطینی اتھارٹی کو سیکیورٹی کی صورتحال پر قابو پانے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔
اخبار “رائے الیوم” نے تیسرے انتفاضہ کے مقابلے میں صہیونیوں کی بے بسی کے بارے میں لکھا: قطر سے انتفاضہ کے طوفان کو روکنے میں تعاون کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور مصر کے ساتھ بھی رابطے اور مشاورت کی گئی ہے۔ خاص طور پر مصر نے مغربی کنارے کی صورت حال کے دھماکے کے خلاف خبردار کیا ہے۔
رائے الیوم کی رپورٹ کے مطابق اس مرحلے پر تیسرے انتفاضہ کو روکنا صیہونی حکومت کے فائدے میں ہے اور جو چیز اس حکومت کے لیے مفید ہے وہ فلسطینی قوم کے لیے نقصان دہ ہے۔ تیسرے انتفاضہ میں صیہونی خودساختہ اداروں کی کمزوری سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
اس رپورٹ کے مطابق اس انتفاضہ میں مغربی کنارے کے باشندے ایک اور ہتھیار اٹھائیں گے جس کی تاثیر واضح ہے۔ یہ ہتھیار فلسطینیوں اور صہیونی فوج اور آباد کاروں کے درمیان اجتماعی تصادم ہے اور یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو صیہونیوں کے لیے دہشت کا باعث بن چکا ہے۔
رائے الیوم کا کہنا ہے کہ عرب ممالک اس بار اسرائیل کو انتفاضہ سے نہیں بچا سکیں گے، صیہونی حکومت اب اپنے دشمنوں کو کمزور نہیں سمجھ سکتی اور یقیناً انتفاضہ کے طوفان کو روک نہیں سکے گی۔ جب تک کہ فلسطینی عوام کے حقوق کو رسمیت نہ دی جائے۔













تبصرہ کریں