ویسے بھی یمنی عوام نے صیہونی حکومت کی معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ صہیونی فوج کے اقتصادی نتائج جب اپنا رنگ دکھائیں گے تو اس کے پاس پسپائی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
شہید قاسم سلیمانی نے اپنے نام کا حق ادا کیا اور خود کو ٹکڑوں میں بکھیر کر امام عصر (عج) کو سنبھال لیا۔ بلاشبہ آج ہر دل میں موجود سردار سلیمانی کی محبت جناب زہراء سلام اللہ علیہا کی ہی دعا ہے۔ شہید کی زندگی کا ہر پہلو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ حقیقی عاشق خدا و رسول تھے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 1967ء میں مغربی کنارے پر غاصبانہ قبضے کے بعد صیہونی رژیم نے فلسطینیوں کو طاقت کے زور پر ان تمام علاقوں سے بے دخل کر دیا اور ان کے 50 ہزار سے زائد گھر اور دیگر عمارتیں مسمار کر دیں۔
آج نہ صرف فلسطینی غزہ اور ممکنہ طور پر مغربی کنارے سے اپنے بڑے پیمانے پر بے دخلی کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں بلکہ وہ پڑوسی ممالک جن پر اسرائیل ان کی میزبانی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، وہ بھی سخت مزاحمت کر رہے ہیں۔
غزہ میں موت اور ویرانی، انسانیت کے خلاف اسرائیلی جرائم اور فلسطینیوں کی نسل کُشی پر سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے امریکی پروفیسر جان میئر شیمر کا آنکھیں کھول دینے والا مضمون۔
غزہ مغلوب ہوگا تو امریکیوں کو اپنا ڈھلتا ہؤا استعماری نظام دوبارہ بحال کرنے اور صہیونی ریاست کی تباہی کا ازالہ کرنے کا موقع ملے گا اور نہ صرف پورا عالم اسلام بلکہ تمام محکوم اقوام کو شکست ہوگی، جنہیں نئے زمانے میں امید کی کچھ کرنیں نظر آئی تھیں اور یہ امیدیں دوبارہ پیدا ہونے میں صدیوں کا نہیں تو عشروں کا عرصہ لگے گا کیونکہ عالمی استکبار اپنے نظریئے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے نیا نوآبادیاتی نظام قائم کرنے کی کوشش کرے گا
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیلی جنگ بندی کیلئے یو اے ای کی قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کر دیا۔ جس سے اس کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوگیا۔ اس کے علاوہ چین نے سی پیک کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے۔
کیا یہ صدی کا بہت بڑا معجزہ یا حیرت انگیز واقعہ نہیں کہ ایران جیسی حکومت جس پر عالمی اقتصادی پابندیاں لگی ہوں، وہ امریکہ کو للکار رہی ہے اور اسی طرح سے اسرائیلی حکومت کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا تھا، مگر حماس نے غزہ کی پٹی میں ثابت کر دیا کہ کوئی قوت بھی فلسطین کی سرزمین کو ہڑپ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔
عالمی سطح پر اہل غزہ نے جو اثرات ڈالے ہیں وہ دو پہلووں پر مشتمل ہیں۔ ایک پہلو اہل غزہ کی عظیم استقامت اور پائیداری پر مبنی ہے جس نے دنیا بھر کے انسانوں کو "مغربی اقدار" کی حقیقت سے آگاہ کر دیا ہے۔