جو لوگ ایران کو ڈائریکٹ حملہ کرنے کی ترغیب دیتے تھے یا جن کا زور اس پر تھا کہ غزہ تباہ ہوگیا ہے ایران حملہ کیوں نہیں کرتا، انہیں اسرائیل پر ہونے والے کئی اطراف کے حملوں کے پیچھے آج ایران کیوں نظر نہیں آیا، یہ باعث حیرت ہے۔ اس لیے کہ اس سے قبل ایسی تمام کارروائیوں کا اصل ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا جاتا تھا۔
حیرت انگیز طوفان الاقصٰی آپریشن عرب اسرائیلی جنگوں میں پہلی پیشگی جنگ (Preemptive war) کا اعلان تھا جس کا آغاز سنہ 2006ع میں حزب اللہ نے 33 روزہ جنگ سے کیا تھا۔ یہ قابل فخر اعلان غاصب صہیونی فوج کے تسدید دور کے خاتمے کا اعلان تھا، وہی جو خطے کی طاقتور فوج سمجھی جاتی تھی۔
فاران: اگرچہ تمام صیہونی حلقے اس بات پر اتفاق رائے رکھتے تھے کہ اسلامی مزاحمت کی قید میں موجود تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کروانا ضروری ہے لیکن ان میں اس مقصد کے حصول کیلئے اختیار کئے جانے والے طریقہ کار پر اختلافات پائے جاتے تھے۔ صیہونی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ غزہ جنگ […]
کتنی عجیب بات ہے ایک طرف اپنی سرزمین کے لئے لڑنے والے جانباز و مجاہدین ہیں جنکی کاروائی کو دہشت گردانہ قرار دیا جاتا ہے دوسری طرف انسانیت کے قاتل ہیں بچوں کے قاتل ہیں ، ایسے لوگ ہیں جنکے مظالم کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے یہ لوگ بچوں کو قتل کر تے ہیں پھر سوشل میڈیا پر تصاویر بھی وائرل کرتے ہیں۔
مغربی ایشیا میں ایک مغربی چھاؤنی اور بڑے مغربی سرمایہ داروں کا اڈہ قائم کیا جس کو اسرائیل کہتے ہیں، دو ملکی حل جیسے منصوبے صہیونی جرائم کا ساتھ دینے کے مترادف نہ بھی ہوں تو غفت اور حماقت ضرور ہیں۔
فلسطینی جوانوں نے امریکی اور صیہونی جرنیلوں کو بھی اس جنگ میں قتل کیا ہے۔ گذشتہ 18 دن کی زمینی جنگ میں صیہونیوں کا واحد کمال نہتے فلسطینی شہریوں، خواتین اور بچوں کا قتل عام رہا ہے۔ انہوں نے اسکولوں اور اسپتالوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آزادی اظہار کے ان دعوے داروں نے فلسطین کا دفاع کرنے والے ادیبوں اور صحافیوں کو بھی دیوار سے لگا دیا ہے۔ اس پالیسی نے مغربی معاشرے کے عوام میں غصہ پیدا کر دیا ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان میں خاص طور پر ریپبلکنز کی پوزیشن پر غور کرتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسرائیل اور یوکرین کو دی جانے والی امداد میں فرق کرتے ہوئے نیز بائیڈن کی جانب سے ویٹو کرنے کی دھمکی کی وجہ سے اسرائیل کو 14.3 بلین ڈالر کے امدادی منصوبے کی منظوری اتنی اسان نہیں ہوگی، پہلے اس منصوبے کی منظوری سینیٹ میں روک دی جائے گی، جہاں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کے موقف اور ان کی انتظامیہ کی طرف سے اسرائیل کی غیر مشروط اور ہمہ گیر حمایت نیز غزہ کی موجودہ جنگ کے لیے فلسطینیوں بالخصوص حماس کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کے باوجود کئی امریکی سیاست دان صیہونی حکومت کی جارحانہ نوعیت اور فلسطینیوں کے خلاف صیہونیوں کے عشروں پر محیط مظالم سے بخوبی واقف ہیں۔