غاصب صیہونی رژیم کی شکست کی ساتویں نشانی اس کے اہم ترین اتحادی ملک امریکہ کا شش و پنج کا شکار ہو جانا ہے۔ امریکہ اس وقت اس بارے میں شدید تردد کا شکار ہے کہ غزہ جنگ میں کس طرح اسرائیل کی حمایت کرے۔ ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ حماس کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے لہذا یہ جنگ جاری رہنے کا خواہاں ہے۔
امریکی اور اسرائیلی ہرگز نہیں جاتے تھے کہ غزہ کی مقاومت اتنی مستحکم اور ناقابل شکست ہے، جنون نے ان کی عقلوں کو غارت کر ڈالا اور اب انہیں بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
لیکن معصوم بچوں کا یہ پاکیزہ خون بہت جلد پوری دنیا میں اصل حقیقت کو عیاں کر دے گا۔ جیسا کہ آج ہم پیرس، لندن، امریکہ اور دیگر یورپی شہروں میں ہزاروں افراد کی جانب سے سڑکوں پر نکل کر فلسطین کی حمایت کا اظہار دیکھ رہے ہیں۔ سلام فرماندہ ترانہ سوشل میڈیا میں بھرپور طریقے سے وائرل ہوا ہے اور دنیا بھر کی اہم شخصیات ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔
جب عرب بہار کے نام پر خطے میں اسرائیل کی خاطر حالات خراب کئے گئے اور جنگیں مسلط کی گئیں تاکہ شام، ایران، حزب اللہ اور فلسطینی مقاومت کو کچلا جا سکے، تو امریکہ کی سرپرستی میں جو اتحاد تشکیل پایا تو اس میں بھی فرانس، برطانیہ سمیت یورپی ممالک اور خطے کے ممالک میں سعودی عرب، قطر، امارات، اسرائیل اور ترکی سرفہرست تھا۔ ترکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترک صدر اردگان کے بیٹے براق اردوان کے بحری جہاز ترکی سے سامان اور عراقی کرد علاقوں کا پٹرول اسرائیل منتقل کرتے ہیں اور اسرائیل کے زرعی بیج اور مصنوعات بھی ترکی کی منڈیوں میں بکتے ہیں۔
اسرائیل کے ناجائز قیام کے آغاز سے ہی امریکہ اس کا سب سے بڑا سیاسی حامی اور اسلحہ فراہم کرنے والا ملک تصور کیا جاتا ہے۔ امریکہ ساختہ اسلحہ اسرائیل کی فوجی طاقت کا اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف بین الاقوامی قوانین کی رو سے غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے یہ اسلحہ عام شہریوں کے خلاف استعمال ہونے کی صورت میں اس کی براہ راست ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔
المعمدانی ہسپتال کے جرم نے غزہ کی جنگ کا نقشہ پلٹ دیا ہے۔ ایک ہزار سے زائد شہداء و زخمیوں بالخصوص فلسطینی بچوں کا خون ہرگز رائیگان نہیں جائے گا۔ یہ خون ان شاء اللہ صہیونی قبضے کے خاتمے کی نوید لائے گا اور صدر ایران سید ابراہیم رئیسی کے بقول المعمدانی ہسپتال پر حملے کی آگ صیہونیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
امریکی وزیر خارجہ اینتھونی بلینکن کے خطے کے ممالک کے دورہ جات بھی بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں جبکہ غزہ میں مقیم فلسطینی شہری بھی بھرپور استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ لہذا اب یوں دکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ اور صیہونی رژیم غزہ پر زمینی حملہ انجام دینے سے باز آ جائیں گے۔ لیکن اس کے باوجود فضائی بمباری کے ذریعے فلسطینی شہریوں پر اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کرنے کیلئے دباو ڈالا جا رہا ہے۔
اسرائیل درپیش حالات پر قابو پانے کیلئے حالیہ معرکے کو عالمی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کیلئے طوفان الاقصی کو اسرائیل اور خطے کا نائن الیون قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن چین سے مقابلہ بازی اور یوکرین جنگ کی روشنی میں امریکہ اور نیٹو کا اس معرکے میں شامل ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
صد افسوس حقوق بشر کا علم بلند کرنے والے ممالک اسرائیل کی مدد میں پیش پیش ہیں، جن میں امریکہ، فرانس، اٹلی، جرمنی اور انگلینڈ ہمیشہ کی طرح شامل ہیں جوکہ اسرائیل کے ماں باپ ہیں، لیکن فلسطینی مظلوم لوگوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے ہیں۔