الاقصیٰ آپریشن کی ایک اور اہم خصوصیت اس حملے کے لیے تحریک حماس کی بہترین منصوبہ بندی تھی۔ وقت کے لحاظ سے یہ حملہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل تھا، کیونکہ اس وقت صیہونی حکومت داخلی انتشار کے عروج پر ہے۔
اس وقت نہ صرف مغربی کنارہ بلکہ مقبوضہ بیت المقدس اور 1948ء کی فلسطینی سرزمینیں بھی غاصب صیہونی رژیم کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیں اور ہم آئے دن وہاں اسلامی مزاحمتی کاروائیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ بیرونی سطح پر بھی فلسطین کے دفاع کیلئے اسلامی مزاحمتی بلاک سرگرم عمل ہے اور وہ فلسطینی عوام اور فلسطین کاز کا حقیقی حامی تصور کیا جاتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران، خطے میں امن و سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ترتیب دی گئی اسرائیلی حکومت کی مہم جوئی اور تخریبی سرگرمیوں کے خلاف خبردار کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے جائز اور مسلمہ حقوق پر سختی سے تاکید کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر، اسرائیلی حکومت کی کسی بھی دھمکی اور غیر قانونی اقدامات کا فیصلہ کن جواب دینے کا ذمہ دار ہے۔
غاصب صیہونی حکومت کے اس شکست خوردہ قومی سلامتی کے وزیر بن گویر نے فلسطینیوں کو صلاح دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلحہ ترک کردیں لیکن دوسری طرف آئے روز فلسطینی مزاحمت کاروں کی کاروائیوں نے اپنی کاروائیوں کے ذریعہ بن گویر کے مشوروں کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے اور فلسطینیوں کی قسمت کا فیصلہ سنا دیا ہے۔
فلسطینیوں بالخصوص خواتین اور بچوں کے خلاف حد سے زیادہ تشدد اور فلسطینی عوام کی روزانہ شہادت اور زخمی ہونا مغربی ایشیائی خطے میں اسرائیل کی غاصب حکومت کے خلاف رائے عامہ کی شدت میں ایک اور اہم عنصر ہے۔
اس سال یوم صنعت کے موقع پر ایران میں جس دوسرے میزائل کی وسیع پیمانے پر پیداوار شروع ہوئی ہے وہ حاج قاسم بیلسٹک میزائل ہے۔ یہ بھی ایک لانگ رینج میزائل ہے جو 1400 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بل ملک میں موجود شدت پسند عناصر کے ہاتھ میں قانونی آلہ قتل دینے کے مترادف ہے، جس کے ذریعے وہ کسی بھی شخص، سوچ، تحریر کو معدوم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ کیا ایسے قانون کی نظیر عالم اسلام یا دنیا کے کسی اور ملک میں ملتی ہے، جس میں ملزم کو گرفتاری کے وقت ہی مجرم قرار دے دیا جائے اور اس سے ضمانت کا حق بھی سلب کر لیا جائے۔
بعض دیگر سکیورٹی اور فوجی شخصیات نے بھی کئی مواقع پر حکومت کے خاتمے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ کئی تجزیہ نگاروں اور سیاسی شخصیات نے بھی اس حکومت کے اندرونی بحرانوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس کے خاتمے کے خطرے سے خبردار کیا۔ صیہونی حکومت کے تجزیہ کار اری شاویت ان لوگوں میں سے ہیں، جنہوں نے پہلے کہا تھا: "ہم واپسی کے نقطہ سے گزر چکے ہیں اور اسرائیل اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔"
ہولو کاسٹ پر بات کرنا جس طرح اسرائیل نے جرم قرار دے رکھا ہے، اسی طرح دنیا میں اسرائیل کی جانب سے ہم جنس پرستی کے خلاف بات کرنے کو بھی انسانی حقوق کے خلاف بات تصور کرنے کا ڈھونگ رچا رکھا ہے۔