حقیقت یہ ہے کہ سعودی بادشاہت اس طرح کا موقف اپنا کر صرف اور صرف یہ جتانا چاہتا ہے کہ وہ امریکہ اور یہودی ریاست کی قابل قدر خدمت کر رہی ہے؛ چنانچہ وہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اگر ایران جوہری اسلحہ حاصل کر لے تو خطہ جوہری ہتھیاروں کی مسابقت کی طرف بڑھے گا، چنانچہ بہت زیادہ دیر ہونے سے پہلے ہی، دنیا کے ممالک کو چاہئے کہ ایران کو روک لے۔
معاشی لحاظ سے چین کی مسلّمہ طاقت، فوجی لحاظ سے روس کی عظیم طاقت اور علاقائی لحاظ سے اسلامی جمہوریہ ایران کی ناقابل انکار طاقت، ان تین ممالک کے درمیان قربت اور طاقت کا نیا مثلث بننے کا باعث ہے، اور یہ نیا مثلث مغرب کے دوبار ابھر آنے کی راہ میں رکاوٹ بنا ہؤا ہے۔
شک نہیں کہ اگر ہم اپنے سماج و معاشرے کے مسائل کو لیکر ہرگز غفلت نہ برتیں خود بھی فکر و تعقل سے کام لیں اور معاشرہ میں بھی کچھ ایسا کریں کہ فکر و تدبر کی چو طرفہ فضا قائم ہو سکے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کھوکھلے نعروں سے کوئی پارٹی ہمارا استحصال کر کے اپنا الو سیدھا کر لے اور ہم غافل ہو کر سمجھیں کہ چند جھوٹے وعدوں کی صورت ہمیں ہمارا مدعا مل گیا ۔
مالک نے انسان کو اس کائنات میں اس لئے بھیجا ہے کہ وہ اپنے وجود کے اندر پائے جانے والے ذخائر کو سامنے لائے اور خود بھی آگے بڑھے سماج و معاشرے کو بھی کمال کی راہوں پر گامزن کرائے ، یہ تبھی ہوگا جب انسان اپنی عادتوں کو سدھارے اور قوت ادراک کو بڑھائے لیکن انسان کی غفلت اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی۔
بہت سے ویڈیو کلپس سے صہیونی نامہ نگاروں کی شدید تذلیل و تحقیر کی عکاسی ہوتی ہے؛ صہیونیوں کو صرف اسلامی ممالک کے باشندوں کی عدم قبولیت کا سامنا نہیں بلکہ کوئی بھی ان سے ملنے کا روادار نہیں ہے۔
اب صیہونی حکومت کے قیام کے 74 سال بعد فلسطینی عوام اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ وہ اپنے کھوئے ہوئے حقوق کے حصول کے لیے عرب اور غیر عرب سمجھوتہ کرنے والی حکومتوں اور بین الاقوامی اسمبلیوں پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔ نیز تجربے نے انہیں دکھایا ہے کہ صیہونی قابضین مذاکرات کے ذریعے ان کے کم سے کم انسانی حقوق کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
فاران تجزیاتی ویب سائٹ: ایسے حالات میں جب اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے فلسطینی شہریوں کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال میں شدید اضافہ کر رکھا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہم ایسے منفرد اور اہم واقعات کا مشاہدہ کر رہے ہیں جنہوں نے مقبوضہ […]
اگر یہ غلط ہے اور ہمیں اس بات پر افسوس ہے تو ہم سب کو اس سلسلہ سے چارہ جوئی کرنے کی ضرورت ہے سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہماری ایک تو قومی و ملکی ذمہ داری ہے دوسرے ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے ہمارا دین ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے اس ملک کے عوام کے لئے فکر مند ہوں جس کے ہم باشندے ہیں ، لہذا ہم سبھی اس مسئلہ کو لیکر سوچیں غور کریں اور راہ حل کو تلاش کریں امید کہ ایک دن یہ غربت کا منحوس دیو ہمارے ملک سے باہر نکل جائے گا اور ہندوستانی عوام اس طرح سے عزت کے ساتھ جئیں گے جو ان کا حق ہے ۔
اسرائیل تو آگ لگا کر نکل جائے گا، سوچنا آذربائیجان کو ہے کہ کیا وہ قربانی کا بکرا بننا چاہتا ہے، جیسے آج کل یوکرین بنا ہوا ہے؟