میگزین 1945 لکھتا ہے کہ ایران کے پاس پانچ طاقتور ہتھیار ہیں جن سے امریکہ اور اسرائیل کو یکسان طور پر خوفزدہ ہونا چاہئے، ان ہتھیاروں میں سے ایک "سجیل" میزائل ہے جو تہران سے تل ابیب کا فاصلہ صرف سات منٹ میں کرتا ہے۔
"ارجنٹائن کے جنوب میں پیٹاگونیا کے باشندوں کی بدسلوکی ایسے حال میں بڑھ گئی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس علاقے میں نئے آنے والے یہودی در حقیقت اسرائیلی فوجی ہیں"۔
یوکرین کی جنگ امریکہ کی جنگ ہے، امریکہ کی زائل ہوتی ہوئی بالادستی قائم رکھنے کا بہانہ ہے جس کی وجہ سے روسی تیل اور گیس پر پابندی لگی ہے اور روس نے بھی یورپ کو گیس کی ترسیل بند کردی ہے / توانائی کے بحران نے فرانس کی بیکریوں اور تنوروں کو بھی بحران سے دوچار کیا ہے؛ یہاں تک کہ ان دنوں بہت سی روٹی اور مٹھائی پکانے والی بیکریاں بند ہو چکی ہیں/ جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کی صورت حال بھی فرانس سے بہتر نہیں ہے۔
حزب اللہ اور اس کے سیکریٹری جنرل کی مقاومت اور ثابت قدمی نے ثابت کرکے دکھایا کہ صہیونی ریاست صرف اور صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے اور پوری طاقت سے اس کے سامنے جم کر کھڑا ہونا چاہئے، تب ہی وہ بآسانی گھٹنے ٹیک لیتی ہے۔
کوئی بھی یک طرفہ موقف اپنائے بغیر، کہا جا سکتا ہے کہ ایران، چالیس سالہ دور میں، طاقتورترین پوزیشن حاصل کر چکا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادی حالیہ چند سالوں کی نسبت کمزورترین پوزیشن میں ہیں۔ ایک عامیانہ سی کہاوت ہے کہ اگر بلی کو بھاگنے کا راستہ نہ ملے تو پنجہ مارتی ہے۔ ایران میں حالیہ بلوے بھی ان دشمنوں کا پنجہ مارنے کا مصداق ہیں۔
صیہونی حکومت کی داخلی سیکورٹی انٹیلی جنس ایجنسی شاباک نے جاسوسی کے الزام میں دو صیہونیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
ایک عبرانی اخبار نے اعتراف کیا کہ "الہام یعقوبیان" جو کہ ایک صہیونی یہودی خاتون ہے اور امریکہ میں رہتی ہے، ایران میں حالیہ بدامنی کے ذمہ دار لوگوں میں سے ایک تھی۔
ایک طرف تو فلسطین عرب دنیا کا دل ہے کیونکہ وہ اسے اس کے آفریقی اور ایشیائی حصوں سے مربوط کرتا ہے اور عرب قوم کے اتحاد میں ایک اہم کڑی کی حیثیت رکھتا ہے تو دوسری طرف فلسطین ایک براعظموں کو ملانے والے پل کی مانند ہے جو تین براعظموں یعنی آفریقہ، ایشیا اور یورپ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا یہ خصوصی محل وقوع، اس کو اس صدی کے آغاز سے ہی عالمی سامراج کے ناپاک عزائم اور جارحانہ منصوبوں کے مسلسل تابع کر رکھا ہے۔
مسلمانوں میں سے کوئی بھی فلسطین پر منطبق [شرعی] حکم کے اطلاق میں تذبذب اور تردد کا شکار نہیں ہے۔ یہ وہی مسئلہ ہے جو تمام فقہی کتب میں ـ جہاں جہاد کی بحث پیش کی گئی ہے ـ آیا ہے۔ اگر کفار آ کر مسلم ممالک پر قبضہ کریں یا انہیں محاصرہ کرلیں، جدید اور قدیم مسلم فقہاء میں سے کوئی بھی اس سلسلے میں جہاد کے واجب عینی (یا فرض عین) ہونے میں تذبذب کا شکار نہیں ہوا ہے۔ تمام اسلامی مذاہب اس سلسلے میں ہم فکر اور متفق القول ہیں۔ ابتدائی جہاد واجب کفائی (یا واجب بالکفایہ) ہے؛ لیکن یہ اس موضوع [مسئلۂ فلسطین] کے بغیر دوسرے مسائل میں ہے۔ دفاعی جہاد ـ جو دفاع کا آشکارترین مصداق بھی ہے ـ عینی واجب ہے”۔