نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیل کو ایران کے پیچیدہ جوابی حملے اور پیشرفتہ ہتھیاروں کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیلی قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں گذشتہ 24 سالوں کے دوران 4 خاندانوں کا قتل عام کیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے گذشتہ رات درجنوں ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کو روکنے پر اس کی لاگت 5 بلین شیکل (1.35 بلین ڈالر) تک پہنچ گئی۔
حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے آئرن ڈوم سسٹم کو تباہ کر دیا گيا ہے۔
ایک بیان میں حماس نے خطے کی ریاستوں اور عوام کے "صیہونی حملوں" کے خلاف اپنے دفاع کے فطری حق پر زور دیا۔
اتوار کے روز اسرائیلی قابض فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی اہداف کے خلاف صیہونی ریاست کے سابقہ جرائم کے جواب میں جاری ایرانی حملے میں ان کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ بہت سے شہداء کی لاشیں اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر بکھری پڑی ہیں اورغاصب فوجی ان لاشوں کو اٹھانے سے روک رہے ہیں۔
عیدالفطرکے تیسرے روز جمعہ کو وزارت فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت سے شہادتوں کی تعداد 33 ہزار 634 شہید اور 76 ہزار 214 زخمی ہو گئی ہے۔
فلسطینی تحرک حماس کے عسکری بازو القسام بریگیڈز نے غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقوں میں کارروائیاں کر کے متعدد اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔