انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر‘ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں الشفا میڈیکل کمپلیکس اور اس کے گردونواح میں "اسرائیلی" قابض فوج کی طرف سے جاری فلسطینیوں کا قتل عام کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کرے۔
ریاست ہائے متحدہ، برطانیہ اور فرانس کے چار ڈاکٹر غزہ میں صحت کی نگہداشت کے نظام کی مدد کے لیے ٹیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں جو گذشتہ اکتوبر میں اسرائیل کی جانب سے وہاں پر فوجی حملہ شروع کرنے کے بعد سے مشکلات کا شکار ہے۔
بے گھر ہونے والے عینی شاہدین کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے قابض فوج کو 8 سے 10 فلسطینی شہریوں کو الشفا کمپلیکس کے مردہ خانے میں لے جاتے ہوئے دیکھا۔ پھر قابض فورسز کے ان شہریوں پر وہاں گولیاں ماریں اور انہیں شہید کردیا گیا۔
اسرائیل اپنے کاموں کے حوالے سے دنیا کی انوکھی ریاست مشہور ہے لیکن اس نے ایک تازہ اقدام ایسا کیا ہے کہ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ موجودہ عالمی نظام کو سرے سے ماننے کو بھی تیار نہیں ہے۔
اسرائیلی قابض فوج نے پیر کے روز غزہ کی پٹی میں فلسطینی پولیس آپریشنز کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل فائیق المبحوح کو غزہ میں الشفا میڈیکل کمپلیکس پر حملے کے دوران شہید کر دیا۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے خبردار کیا ہے کہ شمالی غزہ کی پٹی میں بچے بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں۔
مشہور امریکی تجزیہ کار اور مصنف تھامس فریڈمین (Thomas Friedman) نے نیتن یاہو کے اقدامات پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے لکھا: اسرائیل کو اپنے مختلف النوع دشمنوں کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہیں۔
یمن نے بحیرہ احمر میں اسرائیل مخالف آپریشن جاری رکھتے ہوئے، امریکا اور برطانیہ کے مقابلے کے لئے نئی حکمت عملی اپنانے کا اعلان کیا ہے۔
فاران: بیلجیئم کے وزیر اعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا ہے کہ “غزہ میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ عالمی برادری کو غزہ میں جنگ سے متاثرہ لوگوں تک امداد کی فراہمی میں تیزی لانے کی کوشش کرنی چاہیے”۔ ڈی کرو نے’ایکس‘ پلیٹ فارم پر زور دیا […]