غاصب صیہونی حکومت کے جارح فوجیوں نے غزہ میں انسان دوستانہ امداد کے حامل ٹرکوں کی طرف جانے والے فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کی ہے۔
اسرائیل کی جاری جارحیت کا فلسطین کی اسلامی مزاحمت نے دندان شکن جواب دیا ہے۔
پاپائے روم پوپ فرانسس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے اپنے مطالبے کی تجدید کرتے ہوئے کہا ہےکہ غزہ میں بہت قتل عام ہوچکا ہے۔ اب وہاں مزجد جنگ جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ اسرائیل تباہ کن جنگ کا نشانہ بنا رہا ہے۔
غزہ میں فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں 13 خاندانوں کا قتل عام کیا ہے، جس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 124 افراد شہید اور 210 زخمی ہوئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ غزہ کے "دو ہسپتالوں کمال عدوان اور العودہ ہسپتالوں میں مریض اور زخمی بھوک سے مر رہے بچے ہیں۔
غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس میں ایک بوبی ٹریپ بم دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم 3 اسرائیلی فوجی جھنم واصل اور 14 زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں سے 6 کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت نے اپنے تازہ ترین اعداد وشمار میں اعلان کیا ہےکہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران جارح صیہونی فوج کے حملے میں مزيد نوے فلسطینی شہید ہوگئے۔
یمن کی قومی سالویشن حکومت نے غزہ میں صیہونی جرائم کے رکنے تک بحریہ کے بحری آپریشن کے جاری رہنے کا اعلان کیا ہے۔
ایک مصری تجزیہ کار نے غزہ کے باشندوں کو امداد کی فضائی ترسیل کو انسانیت کی توہین قرار دیتے ہوئے زمینی ترسیل کی بحالی کا مطالبہ کیا۔