اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کی جانب سے امداد کے منتظر فلسطینیوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد شہید اور 700 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت صحت نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ "گذشتہ سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک 30,228 شہید فلسطینی شہید اور 71,377 زخمی ہو چکے ہیں"۔
لاوروف نے کہا کہ مصر اور الجزائر سمیت روس اور عرب ممالک نے فلسطینیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے، ان کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے اور اتحاد کی بحالی کا موقع فراہم کرنے کی کوشش کی۔
کولمبیا کے صدرگستاو پیٹرو نے غزہ شہر کی الرشید اسٹریٹ پرنہتے فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے کی گئی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے"نسل کشی" اور فلسطینیوں کے "ہولوکاسٹ" کے مترادف قرار دیا۔
فلسطینی وزارت تعلیم نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر 7 اکتوبر کو اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک 5,424 طلباء شہید اور 9,193 زخمی ہو چکے ہیں۔
غاصب صیہونی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں 11 قتل عام کیے جس کے نتیجے میں 96 شہید اور 172 زخمی ہوئے۔
غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا کہ قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں خاندانوں کے خلاف 10 اجتماعی قتل عام کیے ہیں، جس میں 90 فلسطینی شہید اور 164 زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی ملٹری انٹیلی جنس کے سابق افسر اور رینڈ انسٹی ٹیوٹ میں "ڈیفنس پروگرام" کے ڈائریکٹر رافائل کوہن نے مجلہ فارن افیئرز میں غزہ میں غاصب اسرائیلی ریاست کے بہیمانہ حملوں کے نتائج کے بارے میں لکھا کہ اسرائیل اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔
غاصب صیہونی حکومت کے ذرائع نے جنگ غزہ کے بارے میں صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو کا ایک پلان جاری کیا ہے۔