ایک صہیونی صحافی نے اپنے مضمون میں لکھا: حماس تحریک کے سربراہ غزہ میں جشن فتح منانے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔
بین الاقوامی، جنگی، انسانی، انسانی حقوق اور جمہوری قوانین کا احترام اور دیگر ممالک کی خودمختاری کا احترام وہ امور ہیں جن کی خلاف ورزی کے بعد امریکی حکمرانوں کی منافقت عیاں ہو گئی ہے اور عالمی اور علاقائی سطح پر ان کا گستاخ، مجرمانہ، جارحانہ، غیر انسانی، لوٹ مار والا اور نسل پرستانہ چہرہ کھل کر سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے غزہ جنگ میں صیہونی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صیہونی حکومت ایک ایسی جنگ میں پھنس گئی ہے جس کا کوئی مستقبل نہيں ہے۔
غزہ کی پٹی پر وحشیانہ اسرائیلی جارحیت کے 99ویں دن مزید قتل عام، تباہی، اور رہائشی محلوں کا صفایا کیا گیا جس میں مزید دسیوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے۔
آج ہفتے کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی بربریت اور جارحیت کے 99دن ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے ارتکاب کا سلسلہ جاری ہے اور مزید فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا گیا ہے۔
انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن نے کہا: یمن امریکہ کی طرف سے کشیدگی میں اضافے سے متعلق مختلف اہداف کی ایک فہرست تیار کر رکھی تھی اور یمنی بے چینی سے جنگ میں امریکہ اور برطانیہ کی براہ راست مداخلت کے منتظر تھے۔
غزء میں صیہونی فوجیوں کے جاری حملوں میں دو اور صحافی شہید ہوگئے اور غزہ کےخلاف جارح صیہونی فوج کے حملوں میں اب تک ایک سو چودہ صحافی شہید ہوچکے ہیں۔
عالمی عدالت انصاف قابض اسرائیل ریاست کے خلاف فلسطینیوں کی منظم نسل کشی کے مقدمے پر آج سے سماعت شروع کرے گی۔ دوسری جانب پاکستان نے جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر درخواست کا خیرمقدم کیا ہے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں مزید سیکڑوں فلسطینی شہید ہوگئے۔