فلسطین کے مرکزی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار نے اتوار کو اشارہ کیا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی طرف سے چھیڑی جانے والی جنگ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد "1948 کے نکبہ کے بعد سب سے زیادہ ہوچکی ہے"۔
غزہ پر غاصب صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن نے بحیرۂ احمر میں امریکا کی ناتوانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہر قسم کے سیناریو کے مقابلے کے لئے استقامتی تحریک کی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔
آج اتوار کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی بربریت اور جارحیت کا 86 واں دن ہے۔ اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے ارتکاب کا سلسلہ جاری ہے اور مزید فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا گیا ہے۔
وزارت صحت کے اس تازہ اعلان کے مطابق شہداء کی بہت بڑی تعداد کا تعق عام شہریوں سے ہے۔ علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے غزہ پر زمینی حملوں کے دوران جن فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے، ان میں 99 شہری غزہ کے ہسپتالوں میں کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز ہیں۔
القسام بریگیڈز نے بتایا کہ خان یونس شہر کے مضافات میں القسام مجاہدین کی دشمن کی گاڑیوں سے جھڑپ کے حیران کن مناظر دیکھے گئے، جس میں ایک مزاحمت کار سرنگ سے نکل کر ایک ٹینک پر اسٹروب ڈیوائس لگانے میں کامیاب ہو گیا جس کے بعد اس میں دھماکہ ہوا اور ٹینک فوجیوں سمیت تباہ ہوگیا۔
فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 187 شہری شہید اور 312 زخمی ہوگئے۔
آج ہفتے کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی بربریت اور جارحیت کا 85 واں دن ہے۔ اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے ارتکاب کا سلسلہ جاری ہے اور مزید فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا گیا ہے۔
غزہ پر وحشیانہ صیہونی جارحیت بدستور جاری ہے جس میں مزید200 فلسطینی شہید ہوئے۔