مغربی کنارے اور غزہ میں کرائے گئے ایک سروے میں حصہ لینے والے تقریباً تین چوتھائی یعنی 72 فی صد فلسطینیوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کو صیہونی حکومت پر حملہ کرنے کا حماس کا فیصلہ درست تھا۔
عبرانی میڈیا نے 60 دن کی لڑائی اور بھاری نقصان اٹھانے کے بعد گولانی بریگیڈ کے غزہ سے انخلاء کی اطلاع دی۔
ترجمان نے کہا کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران القسام مجاھدین نے غزہ میں اسرائیلی فوجیوں پر 15 سنائپر کارروائیاں کیں جن میں کئی فوجیوں کو جھنم رسید کیا گیا۔
آج بدھ کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی بربریت اور جارحیت کا75واں دن ہے۔ اس طرح آج غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو اڑھائی ماہ مکمل ہوچکے ہیں۔
یمن کی تحریک انصار اللہ کے مرکزی رکن نے فلسطینی عوام پر صہیونی ریاست کے حملوں پر عرب ممالک کی انفعالیت پر کڑی تنقید کی اور کہا: اگر یمن فلسطین کا پڑوسی ملک ہوتا تو یمنی عوام اسرائیل کا کام تمام کر دیتے۔
عبرانی ذرائع نے غزہ کے خلاف جنگ کے صیہونیوں پر پڑنے والے شدید اثرات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ 60 فی یصد اسرائیلی فوجی ذہنی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔
انسانی حقوق گروپ نے کہا ہے کہ اس کے کارکنوں کو پتا چلا ہے کہ غزہ کے علاقوں میں اسرائیلی فوج گھر گھر تلاشی کے دوران مردوں کو قتل اورعورتوں بچوں اور عورتوں کے ساتھ بدسلوکی کررہی ہے۔ مردوں کو برہنہ کرکے انہیں گولیاں ماری جاتی اور انہیں خاندان کے سامنے بے دردی کے ساتھ شہید کردیا جاتا ہے۔
غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی ریاست نے گذشتہ گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں میں 17 ہولناک قتل عام کیے۔
کل منگل کو اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے تل ابیب میں راکٹ داغے جس کے بعد خطرے کے سائرن بجا دیئے گئے۔