اڑھائی ماہ پیشتر غزہ میں اسرائیلی فوج اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان چھڑنے والی خوفناک جنگ آج منگل کو بھی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے شمال اور جنوب میں ہر طرف بمباری کررہی ہے جس میں مزید دسیوں افراد شہید اور زخمی ہوگئے ہیں۔
بحیرہ احمر میں اسرائیل جانے والے بحری جہازوں کے خلاف یمنی افواج کی کارروائیوں کے بعد بریٹش پیٹرولیئم نے اس سمندری راستے سے اپنے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت روک دی ہے۔
فاران: انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروپ ’یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس آبزرویٹری ‘ نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں کی گئی ایک تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جنگ زدہ علاقے کی 71 فیصد سے زیادہ آبادی اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی بھوک کی سزا کا شکار ہیں اور بھوک کی […]
صحافی انس شریف نے بتایا کہ جبالیا پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی طیاروں کے وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں بلاک دو میں دسیوں شہری شہید، زخمی اور لاپتا ہوگئے۔
طولکرم میں نورشمس کیمپ پرآج فجر کے وقت ڈرون حملے میں 4 جوان شہید متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔
آج سوموار کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی بربریت اور جارحیت کا73 واں دن ہے۔
یمن، وہ ملک ہے جو مقبوضہ فلسطین سے 2000 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، طوفان الاقصیٰ کے بعد کے ایک مہینے میں ٹوٹتے پھوٹتے صہیونی پیکر پر مہلک ترین ضربیں لگانے میں کامیاب ہؤا۔
صفا ایجنسی کے مطابق قابض فوج کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں گولانی بریگیڈ کی 13ویں بٹالین کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل ٹومر گرین برگ کے علاوہ 13ویں بٹالین کے پلاٹون کمانڈرکو بلایا گیا۔ "روئی میلڈسی" شامل ہیں۔
آج بدھ کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی بربریت اور جارحیت کا 68 روز جاری ہے۔