دو اسرائیلی حکام نے حماس تنظیم کی سرنگوں کے بارے میں ایسا بیان دیا ہے کہ ایسی سرنگیں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔
حمدان نے کہا کہ غزہ میں قابض دشمن کے باقی ماندہ قیدیوں، فوجیوں اور بزرگوں کا مسئلہ اس وقت تک زیر بحث نہیں آئے گا جب تک کہ غزہ کی پٹی کے خلاف جارحیت بند نہیں ہو جاتی اور ثالثوں نے اس کے لیے کوششیں کی ہیں۔
فاران: غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت بدھ کو مسلسل 61ویں دن میں جاری ہے۔ قابض فوج نے مزید نہتے فلسطینیوں کا اجتماعی قتل عام اور نسل کشی کی کارروائیاں کی ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی مجاھدین نے غاصب فوج کا پوری استقامت اور پامردی کے ساتھ مقابلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ قابض فوج کے […]
نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی ہے کہ حماس نے 7 اکتوبر کی کارروائی میں اسرائیل کے جوہری میزائل پروگرام کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے ۔
فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ الخلیل کے شمال مشرق میں واقع قصبے سعیر میں قابض فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں دو نوجوان شہید ہوگئے۔ ان کی شناخت 23 سالہ انس اسماعیل الفاروق اور 22 سالہ شہید محمد سعدی الفاروق کے نام سے کی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کیے لیے کیے گئے بڑی تعداد میں حملوں میں سیکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔
ترجمان وزارت صحت اشرف القدرۃ نے اپنے بیان میں زخمیوں کی تعداد بتاتے ہوئے کہا کہ 7 اکتوبر سے اب تک صرف غزہ میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 41316 ہوچکی ہے۔
اقوام متحدہ کےادارہ برائے اطفال ’یونیسیف‘ کے ترجمان جیمز ایلڈر نے نے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کی اسرائیلی بدترین بمباری اس وقت جنوبی غزہ کی پٹی میں ہو رہی ہے جس سے بچوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائی کا آج 59 واں دن ہے جس میں فلسطینی مجاھدین نے دشمن فوج کے ٹھکانوں اور یہودی بستیوں پر راکٹ فائر کیے۔