جہاد طٰہٰ نے غزہ کی جنگ بندی ٹوٹ جانے کے بارے میں العالم سے کہا: وجہ یہ ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ نیتن یاہو کی کابینہ کے خاتمے اور اس کی گرفتاری کے مترادف ہے، اس لئے کہ وہ غزہ پر 50 دن مسلسل بمباری کے باوجود مقاومت کو نہیں توڑ سکا ہے اور قیدیوں کو غیر مشروط طور پر آزاد کرانے سمیت اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں کر سکا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ آج [جمعہ یکم دسمبر 2023ع کی] صبح سے عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد صہیونی غاصبوں نے غزہ پر ایک بار پھر بمباریوں کا آغاز کیا۔ اب تک 178 فلسطینی شہید اور 589 زخمی ہو گئے۔
عراق کی اسلامی مزاحمت کا کہنا ہے کہ ہم غزہ اور جنوبی لبنان کے عوام کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
شمال مغربی غزہ میں صیہونی حکومت اور فلسطنی مجاہدین کے درمیان جھڑپوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔
غزہ پٹی پر صیہونی حکومت کے تازہ حملوں میں الاقصی چینل کے ایک نمائندے کی شہادت کی خبر ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر آج جمعہ کے روز اپنی بربریت کا دوبارہ آغاز کیا ہے۔ تازہ بمباری میں درجنوں نہتے فلسطینی جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں شہید ہوگئے ہیں۔
فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر عراق کے مختلف صوبوں بشمول بغداد اور کربلا میں یکجہتی کے اجتماعات ہوئے۔
عدالتِ انصاف نے عملی طور پر یورپی ممالک کو اجازت دی ہے کہ وہ خواتین کو حجاب کے انتخاب کی آزادی سے محروم کر دیں اور ان کی ملازمت اور جاب کرنے کی پوزیشن کو خطرے میں ڈالیں۔ مغربی ممالک کے قانونی ادارے مختلف جواز اور تاویلات کے ساتھ مسلم خواتین بالخصوص ان کے لباس پر پابندیاں عائد کرتے ہیں، حالانکہ حجاب صرف ایک مذہبی علامت نہیں ہے بلکہ مسلم خواتین کی شناخت کا بنیادی حصہ بھی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ شہید ہونے والے دو بچے آدم سامر الغول جس کی عمر8 سال بتائی جاتی ہے اور پندرہ سالہ اسل سلیمان ابو الوفاء اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔