طوفان الاقصٰی کاروائی کا انچاسواں دن ایسے حال میں شروع ہؤا کہ غاصب ریاست نے عارضی جنگ بندی کے آغاز کو ایک دن ملتوی کردیا اور اس عرصے میں جنون آمیز انداز سے غزہ کے مختلف علاقوں کو بہیمانہ بمباری کا نشانہ بنایا۔ غاصب صہیونیوں نے جنگ بندی سے کچھ دیر پہلے انروا [UNRWA] کے ایک اسکول پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 27 فلسطینی شہید اور 93 زخمی ہوگئے۔
اس تاریخی فوجی کاروائی نے اسرائیلی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا، 1400 اسرائیلی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے۔ اس حملے کو 1973ع کی جنگ کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس کی سب سے بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔
صہیونیوں جمعرات کی صبح 05:00 بجے سے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا مگر اچانک جنگ بندی ملتوی کرنے کا اعلان کرکے غزہ کے رہائشی اور گنجان آباد علاقوں بشمول بیت لاہیا پر جنون آمیز حملے کرکے درجنوں فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔
یمن کی مسلح افواج نے مقبوضہ فلسطین کے جنوبی علاقوں میں غاصب صیہونی حکومت کے مختلف فوجی اہداف پر متعدد کروز میزائل داغے ہیں۔
فلسطینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے بدھ کے روز یہ حملہ طولکرم پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بناتے ہوئے کیا ۔ اس ڈرون حملے میں چھ فلسطینی شہید اور متعدد زخمی کر دیے گئے۔
جنوبی افریقہ کے اخبار eNCA نے کہا کہ "جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ نے ووٹ دیا اور فیصلہ کیا کہ اسرائیلی سفارت خانہ بند کر دیا جائے اور سفارتی تعلقات منقطع کر دیے جائیں۔
امریکی اداکار نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’اگر کسی نے میرے بچوں کے ساتھ ایسا کیا، اگر کسی نے انہیں تکلیف دی، ان کی جان کو بھوک اور پیاس سے خطرہ میں ڈالا، ان پر بمباری کی، تو میں اس کے خلاف ہر طرح سے لڑوں کا، فلسطینیوں کو یہ حق ہے کہ وہ ان کے بچوں کو قتل کرنے والوں سے جس طرح چاہیں لڑیں۔
غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا کہ 111 شہداء کے جسد خاکی جو غزہ اور شمال کے رہائشی ہیں کو خان یونس کے مغرب میں ایک اجتماعی قبر میں دفن کیا گیا ہے۔
طوفان الاقصٰی کا سینتالیسوان دن ایسے حال میں شروع ہؤا کہ صہیونی ریاست نے عارضی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے پر دستخط کر دیئے ہیں، جبکہ وہ غزہ میں قتل عام کے باوجود ایک بھی عسکری ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔