اسرائیلی قابض حکومت کی طرف سے غزہ کی پٹی کے محاذ پر مجاھدین کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کو چھپانے کے باوجود ایک اسرائیلی عہدیدار نے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ہر گھنٹے میں اسرائیلی فوج کا ایک فوجی غزہ میں ہلاک ہو رہا ہے۔
غزہ میں غاصب صہیونیوں کے جرائم تینتالیسویں دن بھی جاری رہے۔ آج صبح خان یونس پر بمباری میں 64 اور شام کو الفاخورہ اسکول پربمباری میں 200 فلسطینی شہید ہوگئے۔
مقامی ذرائع نے اشارہ دیا کہ کیمپ کے مرکز میں مارکیٹ اسٹریٹ پر فتح تحریک کے ہیڈ کوارٹر پر ڈرون نے بمباری کی جس سے اس جگہ کو بڑا نقصان پہنچا۔
غزہ پر غاصب صہیونی کے ہاتھوں نسل کشی کا بیالیسواں دن ایسے حال میں شروع ہؤا کہ رہائشی علاقوں، پناہ گاہوں اور اسپتالوں پر غاصب فوج کے حملے جاری ہیں۔
تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ صیہونی دشمن کو فلسطینی سرزمین سے نکال باہر کیا جائے گا اور اسے شکست کے سوا کچھ نصیب نہیں ہوگا۔
غزہ کے ہسپتالوں پر غاصب صیہونی حکومت کی جارحیت جاری ہے ۔ انڈونیشین ہسپتال میں کام مکمل طور پر رک گيا ہے جبکہ المعمدانی یا الاہلی ہسپتال کا محاصرہ کر لیا گيا ہے-
اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے جمعرات کی شام اعلان کیا ہے کہ اس نے کل جمعرات کو صیہونی فوج کی مزید 21 فوجی گاڑیاں، کییرئر اور ٹینک تباہ کردیے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے سفید فاسفورس سے تیار کردی بموں کو فلسطینی آبادی کو خوف زدہ کرنے اور انہیں علاقے چھوڑنے کے ساتھ ساتھ ان کی نسل کشی کے لیے ایک مکروہ جنگی حربے اور جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔
حماس نے کہا کہ غزہ میں الشفاء ہسپتال کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے صہیونی فوج کے دعوے کو اپنا کر امریکا نے نہتے شہریوں کےقتل عام میں قابض فوج کی مدد کی ہے۔