فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں الشفاء ہسپتال پر اسرائیلی فوج کی بربریت اور وحشیانہ قتل عام کے بعد وہاں پر موجود ڈیڑھ سو سے زاید لاشوں کی کئی روز کے بعد اجتماعی تدفین کی جا رہی ہے۔
طوفان الاقصیٰ کے بعد غزہ پر غاصب صہیونی ریاست کے حملوں اور جنگی جرائم کا سلسلہ جاری ہے، حالات روز بروز خراب تر ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے ادارے UNRWA نے ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے اپنی انسانی سرگرمیاں بند کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔
غزہ کے مظلوم عوام کے قتل عام اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں امریکی حکومت صیہونی حکومت کی بھر پور مالی اور اسلحہ جاتی حمایت کررہی ہے لیکن امریکی عوام فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں اور غزہ جنگ کے خلاف ان کے ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے عسکری ونگ شہید عزالدین القسام بریگیڈز کے فوجی ترجمان ابو عبیدہ نے تصدیق کی ہے کہ اس کے مجاہدین نے 48 گھنٹوں کے اندر 20 اسرائیلی فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کر دیا ہے۔
آج [اتوار کو] غزہ میں نہتے شہریوں کا قتل عام جاری رہا ہے اور صہیونیوں نے خان یونس میں بے گھر افراد کو پناہ دینے والے گھروں پر بم گرائے ہیں اور 20 فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔
غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے مسلسل تیسرے روز غزہ میں محصور الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے اندر 7 بیمار اور زخمی شہریوں کی شہادت کا اعلان کیا۔
کل سے غیر فعال ہونے والے اسپتال کے اطراف میں صہیونی غاصبوں کی گولہ باری اور بمباری جاری ہے، اسپتال کی بجلی کٹ گئی ہے اور اسپتال کے وسائل سے استفادہ کرنا غیر ممکن ہو گیا ہے۔ سی سی یو اور آئی سی یو میں داخل مریض شہید ہو گئے۔ نوزائیدہ بچوں میں سے بھی کئی شہید ہوئے۔ اسپتال کے اطراف میں مقاومت کے مجاہدین صہیونیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔
غزہ پٹی پر غاصب اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری جاری ہے اور اس بمباری میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی جوان پوتی بھی شہید ہوگئی ہیں۔