غزہ کی پٹی میں سرکاری میڈیا آفس کے سربراہ سلامہ معروف نے کہا ہے کہ غاصب صیہونی- نازی فوج 7 اکتوبر سے غزہ کی پٹی کے خلاف ہولوکاسٹ کا ارتکاب جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں بڑے جنگی جرائم بھی شامل ہیں جن میں 40,000 شہری شہید، زخمی اور لا پتا ہوئے ہیں۔
غزہ پر غاصب صہیونی ریاست کے حملوں میں اب تک بچوں اور خواتین سمیت 10000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، پوری دنیا کے حریت پسند انسان، اور متعدد حکومتیں جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن غاصب ریاست امریکہ کی حمایت میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
غزہ پر جارحیت کا سلسلہ برقرار رکھنے پر جنوبی افریقا نے اسرائیل سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا لیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم یورو- میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس آبزرویٹری نے کہا ہے کہ اسرائیل نے 1948ء میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا قتل عام غزہ کی پٹی پر گذشتہ رات تاریکی کی آڑ میں اور مواصلات اور انٹرنیٹ خدمات منقطع کرنے کے بعد کیا۔
حماس کے ترجمان نے پیر کی رات اتوار کی شام کو کہہ دیا تھا کہ صہیونی ریاست نے غزہ کا انٹرنیٹ منقطع کرکے غزہ میں مزید بڑے جرائم کا منصوبہ بنایا ہے، تاکہ اس کے بھییانک جرائم کو ذرائع ابلاغ سے چھپا سکے۔
صیہونی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب مقبوضہ فلسطین کے شمالی محاذ کا پورا کنٹرول مکمل طور پر حزب اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہاں حزب اللہ کو ایج حاصل ہے۔
غزہ کی پٹی میں غاصب صیہونی افواج کا ہولوکاسٹ دوسرے مہینے میں داخل ہوگیا ہے۔
اردن کی حکومت نے اعلان کیا کہ اس کے فوجی طیارے نے کل نصف شب کے بعد غزہ کی پٹی میں اردن کے فیلڈ ہسپتال میں فوری طبی امداد بھیجی ہے۔
اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے سربراہوں نے لکھا کہ ’’تقریباً ایک ماہ سے دنیا اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورت حال کو صدمے اور خوف کے ساتھ دیکھ رہی ہے کہ جانوں کے ضیاع اور تباہی کی (بڑھتی ہوئی) تعداد پر ہے‘‘۔