غزہ پر صہیونی جارحیت تیسویں دن ایسے حال میں جاری ہے کہ غاصب ریاست نے آج [سوموار کی] صبح کو المغازی کیمپ پر جنگی جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے، بمباری کی جس کے نتیجے میں 51 فلسطینی شہید اور 100 دیگر زخمی ہو گئے۔
غزہ میں سرکاری میڈیا کے دفتر نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری صیہونی غاصبانہ جارحیت کے نتیجے میں 46 صحافی شہید اور دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں غاصب صیہونی افواج کا ہولوکاسٹ مسلسل 30ویں دن میں جاری ہے۔ دشمن کے طیاروں نے درجنوں تازہ حملے کیے، رہائشی آبادیوں پر بمباری کی۔ ان کے مکینوں کے سروں پر بمباری کی، ضروریات زندگی کو نشانہ بنایا اور کئی طرف سے زمینی حملہ کیا گیا۔
اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے غزہ شہر کے شمال مغرب میں پانچ صیہونی فوجیوں کو ہلاک اور دیگر کو زخمی کردیا ہے۔
غزہ پٹی پر غاصب اسرائیلی حکومت کے حملوں میں اب تک دو سو بیس اسکول تباہ ہوچکے ہیں۔
طوفان الاقصی آپریشن نے جہاں اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی اندرونی کمزوری اور زبوں حالی کو عیاں کیا ہے وہاں عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ درحقیقت 7 اکتوبر کے دن القسام بٹالینز نے مقبوضہ فلسطین میں صیہونی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر حملہ کر کے اسرائیل کے مقابلے میں نئی مساواتیں رقم کر دی ہیں۔
دنیا کی آنکھوں کے سامنے غزہ کے نہتے عوام اور خواتین اور بچوں کے قتل عام کا بھیانک سلسلہ ایسے حال میں جاری ہے کہ مغربی ممالک کی حکومتیں جنگ بندی کی کوئی بھی قرارداد منظور نہیں کرنے دے رہی ہیں، ویٹو کا اختیار رکھنے والے ممالک سلامتی کونسل میں ان قراردادوں کو ویٹو کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی مقتولین کے خون پر آنکھیں بند کرکے جلاد صہیونی ریاست کے حق میں قراردادیں منظور کرنے کے درپے ہیں۔
غزہ کے الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ایک بڑا سانحہ رونما ہونے والا ہے۔
پریس ذرائع نے ہفتے کی صبح غزہ کے مختلف علاقوں پر صیہرنی جارحیت اور غزہ میں النصیرات کیمپ پر ہونے والے حملے میں چھے فلسطینیوں کے شہید ہونے کی خبر دی ہے۔