غزہ پر جاری صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں کے خلاف لیبیا نے، صیہونی حکومت کے حامی ملکوں کے متعدد سفیروں کو اپنے ملک سے نکال دیا ہے-
غزہ کے رہائشی علاقوں پر صہیونی بمباری کا سلسلہ طوفان الاقصٰی کے انیسویں دن بھی جاری رہا، بدھ 25 اکتوبر کا دن بھی مظلوم مسلمانوں کے قتل عام سے شروع ہؤا جبالیا، نصیرات اور خان یونس پر صہیونی بمباری میں خواتین اور بچوں سمیت 16 فلسطینی شہید ہوئے۔
شام کی حکومت کی اگرچہ پہلے یہ پالیسی تھی کہ اسراٸیل کے کسی فضاٸی حملے کا جواب نہ دیا جاٸے بلکہ محض دفاعی کاررواٸی پر ہی اکتفا کیا جائے۔ لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے جس طرح اسراٸیل شام کے ایئر پورٹس اور اس کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر رہا ہے، شام کی حکومت بھی یہ سمجھتی ہے کہ اب وہ وقت آگیا کہ اسراٸیل کو ان کاررواٸیوں کا جواب دیا جائے۔
غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی جارحیت اپنے انیسویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔ صہیونی فوج مسلسل قتل عام، بمباری اور عام شہریوں کو ماورائے عدالت بے دردی سے قتل کرنے کے جرم کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
غزہ میں صیہونی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس میں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 24 ہزار فلسطینی شہید و زخمی ہوئے۔
اردن کی ملکہ رانیہ العبداللہ نے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جنگ کے تناظر میں دنیا پر "کھلم کھلا دہرے معیار" اور "بہری خاموشی" پر عرب دنیا کے صدمے اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اس بات پر زور دے کر کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نہتے بچوں کا قتل عام کرکے دنیا کے سامنے فلسطینی مزاحمت کاروں کو کچلنے کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے۔
فلسطینی استقامت نے غاصب صیہونی حکومت کے فوجی اڈوں پر راکٹوں ، ڈرون طیاروں اور مارٹر گولوں سے حملہ کیا ہے۔
تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے غزہ پٹی کی حمایت کے سلسلے میں عرب اور اسلامی ممالک کی جانب سے فورا دوٹوک موقف اپنائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔