غزہ میں گذشتہ سولہ دن سے اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی تباہ کن بمباری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بچے شہید ہورہے ہیں۔
فلسطینی کی اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے پیر کے روز کہا ہے کہ اس نے مصر اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کے جواب میں مزید دو خواتین قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے پیر کو ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ مغرب "اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی پر خاموش ہے، جبکہ وہ یوکرین کے خلاف روسی جنگ میں روسی خلاف ورزیوں کی مذمت کرنے سے نہیں ہچکچاتا۔"
قطر کے امیر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جارحیت کےدوران تمام حدیں پار کردی ہیں۔
وزارت داخلہ نے زور دے کر کہا کہ قابض فوج کےجنگی طیاروں نے بیت لاہیا پراجیکٹ، شمالی غزہ میں الفلوجہ محلے اور جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں آباد مکانات پر نئے حملے کیے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ شہید اور زخمی ہوئے۔
غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان نے کہا ہے کہ غزہ کے تمام ہسپتالوں پر صیہونی حکومت کی جانب سے حملے کی دھمکی مل رہی ہے-
غزہ میں محکمہ صحت کے اعلان کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں پانچ سو مزید فلسطینی جارح اسرائیل کے حملوں میں شہیدہوگئے۔
اسرائیل کی غزہ پر جاری جارحیت میں عالمی ادارے اپنا موثر ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے صرف تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
صیہونی قابض افواج کی طرف سے غزہ کی پٹی میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف ہولوکاسٹ آج 17 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔