اردن نے تین روزہ عوامی سوگ کا اعلان کیا اور ایران، عراق، کویت وغیرہ کے عوام نے بھی غزہ کے المعمدانی اسپتال میں فلسطینیوں کی ہلاکت کی مذمت میں مظاہرے کئے۔ امریکی سفارت خانوں اور صیہونی حکومت پر قبضے کو روکنا واشنگٹن اور تل ابیب کے جھوٹے دعوے کرنے اور جھوٹ بولنے کی ایک اور وجہ ہے۔
فاران: بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی پر حملے میں مارے جانے والے فلسطینیوں میں ایک سرکردہ فلسطینی خاتون سیاست دان جمیلہ الشنطی بھی شہید ہوگئیں۔ آج جمعرات کو فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر فلسطینی قانون سازکونسل نے جمیلہ الشنطی کی شہادت پر سوگ کا اعلان کیا […]
غزہ پٹی میں قومی سلامتی کے کمانڈر جہاد محیسن اسرائیلی فضائی حملے کے دوران اپنے گھر میں اپنے اہل خانہ سمیت شہید ہو گئے۔
میڈیا کا کہنا ہے کہ چینی صدر نے مطالبہ کیا کہ دونوں فریق فوری طورپر جنگ بندی کا اعلان کریں تاکہ تنازع کو پھیلنے یا قابو سے باہر ہونے سے روکا جا سکے۔
امریکی بزنس انسائیڈر ویب سائٹ کے ذریعہ نشاندہی کی گئی پوسٹ کے مطابق "حماس کے ساتھ اسرائیل کا تنازعہ روشنی کے بچوں اور اندھیرے کے بچوں اور انسانیت اور جنگل کے قانون کے درمیان تنازع ہے"۔
غزہ کی پٹی میں صیہونی قابض فوج کی طرف سے نہتے فلسطینیوں کے خلاف ہولوکاسٹ 14 ویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔ شہریوں کے گھروں، رہائشی محلوں اور پناہ گاہوں پر مسلسل بمباری، نسل کشی جاری ہے اور اس بربریت کو امریکا اور مغرب کی طرف سے قابض فوج کو مکمل معاونت حاصل ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ غزہ کے عرب اہلی ہسپتال تک پہنچنے والے گولہ بارود کے نشانات کے ساتھ ساتھ دھماکے کی آواز اور طاقت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ MK-84 بم سے کیا گیا تھا۔
فلسطین کی وزارت صحت نے صیہونی جارحیت میں غزہ کے پچیس اسپتالوں کو نقصان پہنچنے اور تین اسپتالوں کی سرگرمیاں بند ہوجانے کی خبر دی ہے۔
دیمیتری مدودف نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں ایک اور جنگ ہو رہی ہے ۔ یہ ایسی جنگ ہے جس میں کسی قانون کی پابندی نہیں کی جا رہی ہے اور یہ عام شہریوں کے خلاف بے رحمی سے لڑی جانے والی جنگ ہے۔