مقبوضہ فلسطین میں غاصب صیہونی حکومت کے خلاف فلسطین کی تحریک مزاحمت کی طوفان الاقصی کارروائی، تیسرے دن بھی جاری ہے جس میں غاصب صیہونی حکومت کو مزید بھاری نقصان پہنچا ہے۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے حملے میں اب تک اسرائیل کے سینئر فوجی افسر سمیت 1000 سے زائد صہیونی مارے گئے ہیں جبکہ 2000 صہیونیوں کی زخمی ہونے کی خبر ہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے اتوار کی شام اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر صیہونی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 510 شہریوں کی شہادت کی تصدیق کی گئی ہے۔ شہداء میں میں 91بچے اور 61 خواتین شامل ہیں۔
العنزی نے ایک پریس بیان میں مزید کہا کہ "مہم میں حصہ لینے کے خواہشمند خیراتی ادارے اور فاؤنڈیشنز کے امداد کی فراہمی کے لیے پیشگی منظوری حاصل کر سکتے ہیں۔"
صنعا میں حماس کے مندوب کے دفتر کے دورے کےدوران العیدروس نے اسرائیل کےخلاف شروع کی گئی فلسطینی مزاحمتی مہم کی تحسین کرتے ہوئے اس جنگ میں دشمن کو بھاری نقصان سےدوچار کرنے پر مبارک باد پیش کی۔
القسام بریگیڈز نے ایک فوجی بیان میں کہا یہ حملہ "طوفان الاقصیٰ" آپریشن کا حصہ ہے اور یہ نہتے فلسطینیوں کے گھروں پر اسرائیلی فوج کے بزدلانہ حملوں کا جواب ہے۔
فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی طرف سے نہتے فلسطینیوں کا بے دریغ اجتماعی قتل عام جاری ہے۔ صہیونی ریاست کی جنگی مشین نے غزہ کی پٹی میں 15 خاندانوں کے گھروں پر بغیر کسی پیشگی وارننگ کے بمباری کرکے ان کا اجتماعی قتل عام کیا ہے۔
طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ہفتے کی صبح سے مختلف علاقوں پر صیہونی فوج کی مسلسل وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 198 فلسطینی شہید اور 1610 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
فلسطینی مزاحمتی فورسز کے مطابق غزہ سے داغے گئے راکٹوں سے 160 مقامات پر صہیونیوں کو نشانہ بنایا گیا۔