فاران: اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘نے ترکیہ اور غاصب صہیونی ریاست کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی حمایت سے متعلق ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کو مسترد کردیا ہے۔ حماس نے منگل کے روز ایک پریس بیان میں کہا کہ ہم کسی بھی مسلمان ملک کے ساتھ صہیونی ریاست کے تعلقات معمول پر لانے […]
طلیب نے پیر کے روز ایک پریس بیان میں وعدہ کیا کہ "نسل پرستی اور نسلی تطہیر کے خلاف فلسطینی انسانی حقوق کا دفاع کرنے میں امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی مکمل ناکامی کے نتیجے میں جو کچھ ہوا۔ "ہمیں اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔ "
کل پیر کواسرائیلی حکام نے القدس کے آٹھ خاندانوں کے گھروں کو مسمار کر دیا۔ یہ مکانات اریحا کے مغرب میں تعمیر کیے گئے تھے۔
مسجد الاقصیٰ میں آتش زدگی کی 53ویں برسی کے موقع پر ایک بیان میں عرب لیگ نے قابض اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے خلاف اپنی جارحیت بند کرے۔
ایک صیہونی تجزیہ نگار نے غاصب صیہونی حکومت کو درپیش پانچ بڑے خطرات اور چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ ان میں سب سے خطرناک چیلنج ہے۔
ایک عراقی رکن پارلیمنٹ نے عراقی مالیاتی کنٹرول اور سالمیت کے اداروں سے عراقی شہری ہوابازی کے خلاف قانونی اقدامات کرنے، قابض ریاست سے منسلک سکیورٹی کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ فلسطین کو بچانے کا واحد راستہ مزاحمت ہی ہے۔ مسجد اقصیٰ اور دنیا کی تمام مساجد فلسطین کی مکمل آزادی تک صیہونیت کے خلاف مزاحمت کا مرکز رہیں گی۔
مسجد اقصیٰ کو نذرآتش کرنے کی 53ویں برسی کے موقع پر اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے تمام فلسطینی گروہوں کی شرکت کے ساتھ "ایک ہزار شہداء کی کہانی" کے عنوان سے ایک قومی آرٹ فیسٹیول کا انعقاد کیا۔
اسرائیلی قابض اتھارٹی کی طرف سے مسمار کیے گئے ان عارضی رہائشی ڈھانچوں میں سے 42 ڈھانچے مغربی کنارے کے ایریا سی میں قائم تھے اورباقی رہائشی ڈھانچے دو بدو عرب لوگوں کے علاقوں میں تھے ۔