غزہ پر اسرائیل کی جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور کل ایک 10 سالہ «حنین ولید ابو قایده» زخمی بچہ زخمںوں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔
فلسطین میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے لیے خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانی نے غزہ پر اسرائیلی "فضائی حملوں" (جارحیت) کی مذمت کی۔
رہف کہتی ہیں کہ میرے ہاتھ پاؤں جنت کی طرف بڑھ گئے، میں صہیونی قابض درندے کے ہاتھوں زخمی ہو گئی ہوں۔شدید تکلیف کے باوجود بھی بہادر بیٹی کا جذبہ دیدنی ہے۔ وہ اپنے اعضا کھو جانے کے بعد بھی زندہ رہنا چاہتی ہیں۔
ایک مشترکہ بیان میں عرب ممالک کی سیاسی جماعتوں نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عرب ممالک کی حکومتوں سے نہتے فلسطینیوں کا قتل عام بند کرانے کا مطالبہ کیا۔
جہاداسلامی کے ترجمان طارق سلمی نے کہا کہ ’’ہم مصرطکی ان کوششوں کو سراہتے ہیں جو اس نے ہمارے عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے کی ہیں‘‘۔
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے غزہ کی پٹی پر غاصب صہیونی رژیم کی فوجی جارحیت کو واضح جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے مقابلے میں خاموشی کسی صورت جائز نہیں ہے۔
اسرائیلی حکومت نے جمعے کی شام سے غزہ پر فضائی حملہ کرتے ہوئے جارحیت کے ایک نئے سیاہ دور کا آغاز کیا ہے، جس میں اب تک بتیس فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔
اہرانی دارالحکومت تہران میں ایک اجلاس سے خطاب کے دوران غزہ پر اسرائیلی حملے کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا' صہیونیت ایک بار پھر دنیا کو نوآبادیاتی نظام اور جارحیت کے لیے اپنی رجحانات کا پتہ دے رہی ہے۔ '
اسرائیلی فوج کے جمعہ کو غزہ پر فضائی حملوں میں 15 افراد شہید ہوگئے تھے۔ابتدائی حملوں کے بعد غزہ شہر میں واقع ایک عمارت سے آگ کے شعلے بھڑک اٹھے تھے اور اس کے ملبے سے متعدد زخمی فلسطینیوں کو نکالا گیا تھا۔