صہیونی پولیس نے کل بروز سوموار (13 جون) نے اعلان کیا ہے کہ تین صہیونیوں کو کو خفیہ معلومات انٹرنیٹ پر نشر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں ایک فوجی بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق پولیس، فوج اور شین بیٹ کے اہلکار ان افراد سے مشترکہ تفتیش مکمل کر چکے ہیں۔
غاصب صیہونی حکومت کا ایک فوجی کمانڈر فلسطینیوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا ہے۔
دونوں شیر خوار گاڑی میں بلکتے رہ گئے جب کہ قابض فوج نے انہیں گاڑی میں تنہا چھوڑ کر انسان دشمنی کا بدترین مظاہرہ کیا ہے۔
قابض فوج کی جانب سے کی گئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق مزاحمتی گروپوں نے مزار کے قریب پہنچ کر آباد کاروں اور قابض فوجیوں پر براہ راست فائرنگ کی۔
میڈیا ذرائع نے غرب اردن میں صیہونی فوجیوں کی فائرنگ میں ایک فلسطینی نوجوان کی شہادت کی خبر دی ہے۔
جمال عمرو نے زور دیا کہ القدس اور الاقصیٰ پر کھلی جنگ کے حصے کے طور پر قابض ریاست ایک نیا قدم اٹھا رہا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کھدائی 55 سال سے جاری ہے کیونکہ اس کے آس پاس کے علاقوں میں 58 سے زیادہ کھدائیاں ہیں۔
''یہ فلسطینیوں کی زمین اور علاقوں کے خلاف تجاوازت پر مبنی ہیں۔ اس کے نتیجے میں فلسطینی قدرتی وسائل بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اور فلسطینیوں کا حق خود ارادیت بھی، یہ صورت حال تشویشناک ہے۔
لبنانی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ لبنانی سیکورٹی اور انٹیلی جنس سروسز نے اپنی تحقیقات جاری رکھتے ہوئے متعدد اسرائیلی جاسوسوں کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
صیہونی عسکریت پسندوں نے حالیہ ہفتوں میں فلسطینیوں کے خلاف شدید تشدد اور وسیع پیمانے پر جرائم کی لہر کے بعد آج (منگل) صبح مغربی کنارے کے الگ الگ علاقوں میں چھ فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔