گذشتہ ہفتے قابض اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں کے خلاف جاری ریاستی دہشت گردی کے دوران چار فلسطینی شہید ہوئے جب کہ فلسطینیوں کی مزاحمتی کارروائیوں میں ایک صہیونی فوجی ہلاک ہوا۔
جارح صیہونیوں نے چودہ مئی سن انیس سو اڑتالیس کو فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر کے علاقے میں ظلم و زیادتی، جرم و جارحیت بدامنی و عدم استحکام کی بنیاد رکھی اور اسی بنا پر اس تاریخ کو یوم نکبت سے موسوم کیا گیا۔
یوم نکبہ کی 74ویں برسی پر یورپ کے مختلف ملکوں کی دارالحکومت میں عوام نے سڑکوں پر آکر فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے اور شہید فلسطینی نامہ نگار کے قتل کی مذت کی۔
ایک محقق کا کہنا ہے کہ صیہونی حکومت عورتوں، بچیوں اور بچوں کو گرفتار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی۔ سنہ 2000 سے اب تک فلسطین میں 12000 خواتین کو اسرائیلیوں نے حراست میں لیا ہے اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔
اسلامی یونیورسٹی کے سربراہ کی مشیر برائے امور خواتین نے کہا: ان تحریکوں کی فتح ہو گی جس میں ان تحریکوں کے قائدین کے عزم کے ساتھ ساتھ خواتین بھی پیش پیش ہوں تاکہ مزاحمت کو آگے بڑھایا جا سکے ۔ مزاحمت کے استحکام میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے۔
حزب اللہ لبنان کے سابق سکریٹری جنرل کی بیٹی نے کہا: "مغربی میڈیا صرف نوجوانوں کو ہی نشانہ نہیں بناتا، بلکہ اسلامی دنیا کے تمام طبقوں کو بھی نشانہ بناتا ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، دوسری طرف، مسلمان نوجوان اپنے دفاع کی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔ اسلامی اقدار اور اسلامی معاشرے کے تشخص کے دفاع کے لیے ہر ممکنہ طریقے سے لڑتے ہیں۔ یہ ایک اہم کردار ہے جو نوجوانوں نے ادا کیا ہے۔
اسلامی مشاورتی اسمبلی میں تہران کی سابق نمائندہ خاتون نے کہا: قدس مسلمانوں کے اتحاد کا محور اور عالمی استکبار اور بین الاقوامی صیہونیت کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔
حزب اللہ لبنان کے جنرل سکریٹری نے صیہونی مسلح فورسز کے ہاتھوں الجزیرہ ٹی وی چینل کی نامہ نگار کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہید فلسطینی عوام کی مظلومیت کی گواہ تھی۔
اسرائیلی میڈیا نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں واقع جنین کیمپ پر اسرائیلی قابض افواج کے دھاوے کے دوران جمعہ کی صبح ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں "یمام" یونٹ کے ایک فوجی کی ہلاکت کا اعلان کیا۔