میڈیا ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں تل ابیب کے نزدیک ہونے والی کارروائی میں چھ صیہونی زخمی ہوئے جن میں سے تین ہلاک ہوگئے۔
غاصب صہیونی عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے قبلہ اول کی بے حرمتی پر مختلف فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے اپنے طور پر بھی بیانیے جاری کئے ہیں۔
صیہونی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آ رہے ہیں۔
صیہونی فوجیوں اور غیر قانونی طریقے سے بسائے گئے انتہا پسند صیہونیوں نے مسجد الاقصی پر ایک بار پھر حملہ کیا ہے۔
الھاجری کے دستبردار ہونے سے قبل کویتی قومی ٹیم کے کھلاڑی 19 سالہ محمد الفضلی نے گذشتہ اپریل میں دبئی میں منعقد ہونے والی ورلڈ فینسنگ چیمپئن شپ کے گروپ مرحلے میں اسرائیلی کھلاڑی کا سامنا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
منگل کے مطابق منگل کی شام کو اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ میں عشا کی اذان دینے سے روک دیا تھا۔
بائیڈن نیم رتی برابر عقل و ہوش کا مالک ہوتا تو موجودہ صورت حال میں بہت تیزی سے یمن کی جنگ میں اپنی مداخلت اور جارح سعودی اتحاد کی حمایت کو ختم کرتا۔ کیونکہ یہ ناقابل قبول ہے کہ واشنگٹن ایک طرف سے یوکرین کے معاملے میں انسان دوستی کے بلند بانگ دعوے کرتا رہے اور انسانیت کے لئے مگرمچھ کے آنسو بہاتا رہے اور دوسری طرف سے اس کے ہاتھ کہنیوں تک یمنی عوام کے خون میں ڈوبے ہوئے ہوں!
کل منگل کی شام کو اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر انتظامیہ کو نماز عشاء سے قبل اذان ادا کرنے سے روک دیا۔
منگل کو روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ "تاریخ میں یہودیوں اور نازیوں کے درمیان تعاون کی المناک مثالیں موجود ہیں۔"