پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کا قتل عام منظم سازش کے تحت جاری ہے اور پاکستانی حکام شیعہ مسلمانوں کے خلاف اس گھناؤنی سازش کو ناکام بنانے میں ناکام رہے ہیں ۔ شیعہ مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں پاکستانی حکومت اور پاکستانی عدلیہ نے سستی اور غفلت سے کام لیا ۔
سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے درمیان کھلی اور خفیہ تعلقات میں تبدیلی کے اشارہ کے بعد آخر کار اس ملک کے ولی عہد بن سلمان نے اسرائیل کے بارے میں شاہی حکومت کے اصل موقف کا اعتراف کرلیا ہے۔
"عراق میں مسلم اسکالرز کی انجمن" نے القدس انٹرنیشنل ویک کے ساتھ متعدد تقریبات، سرگرمیوں اور علما کی طرف سے خصوصی بیانات شائع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اسرائیل ہمارے لیے دشمن نہیں بلکہ ممکنہ اتحادی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کو مل جل کر رہنا چاہیے۔
ریاض المالکی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل موجودہ بین الاقوامی بحران کے استحصال کے خلاف، فلسطینی عوام اور ان کے حقوق کے خلاف جرائم میں اضافے کے ساتھ ساتھ امن کے مواقع ضائع کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حقوق دبانے کی سازش کر رہا ہے۔
فروری کے دوران مقبوضہ بیت المقدس میں قابض حکام کے ہاتھوں خلاف ورزیوں کے بارے میں "یورپینز فار یروشلم" کی ماہانہ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ قابض فوج نے 1372 خلاف ورزیاں کیں۔
قابض اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں مزید تین فلسطینی شہری شہید ہوگئے۔
صدر ایران سید ابراہیم رئیسی نے غاصب صیہونی حکومت کے دشمنانہ اقدامات سے مقابلے کے لئے اسلامی ممالک اور امت اسلامیہ کے اتحاد و بھائی چارے پر زور دیا ہے۔
قابض فوج نے "اسراء و معراج" کی تقریبات کے دوران ان علاقوں میں جمع ہونے والے شہریوں کے خلاف گرفتاریوں اور حملوں کی مہم شروع کی۔