اسرائیلی قابض فوج نے غزہ شہر میں واقع ’پیشنٹ فرینڈز ہسپتال‘ کو چند ماہ کے بعد دوبارہ بمباری کرکے تباہ کردیا ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے غزہ پٹی میں غاصب صیہونی حکومت کے مسلسل جرائم کی مذمت کی ہے۔
غزہ پٹی کی مقامی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ قحط پیدا کرنے کی صیہونی حکومت کی پالیسی جاری رہنے کے نتیجے میں ہزاروں مریضوں، بچوں اور عام شہریوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے اور اس کی ذمہ داری امریکہ و صیہونی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
غزہ کی پٹی میں شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے کہا ہے کہ غزہ شہر کے مغرب میں طیران جنکشن سے انڈسٹریل زون تک اسرائیلی فوج کی تازہ بمباری میں کم سے کم 30 سے زائد فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔
حسن نصراللہ نے کہا کہ حماس اپنی طرف سے اور تمام فلسطینی دھڑوں کی جانب سے مذاکرات کر رہی ہے اور حماس جو کچھ قبول کرے گی ہم سب کو قبول ہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ اسرائیلی قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں خاندانوں کے خلاف مزید 4قتل عام کیے جن میں 52 شہری شہید اور208زخمی ہوگئے۔
فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں خاندانوں کے خلاف 3 قتل عام کیے جن میں مزید 50 فلسطینی شہید اور 130 زخمیوں کو گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔
غزہ کے ہزاروں بچوں کے قتل عام پر دہشتگرد اسرائیل کی حمایت کرنے والے یوکرین پر روس کے ذریعے کئے گئے حملے پر ہائے توبہ مچا رہے ہیں۔
فلسطین ہلال احمر سوسائٹی کے ترجمان نے غزہ کی پٹی میں تقریباً 20 لاکھ افراد کے مسلسل بے گھر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔