غزہ کی وزارتِ صحت نے ہفتے کو بتایا کہ سات اکتوبر سے اب تک حماس-اسرائیل جنگ میں فلسطینی علاقے میں کم از کم 34,971 فلسطینی ہو چکے ہیں۔
جمعرات کو اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان میں ایک کار پر بمباری کی جس کے نتیجے میں کار میں سوار کم سے کم چار شہری شہید ہوگئے۔
فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ رفح پرحالیہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 94 افراد شہید ہوئے ہیں جن میں 36 بچے اور 20 خواتین شامل ہیں۔
شام کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ دمشق کے مضافات میں صیہونی حکومت کے آج کے حملے کا ایئر ڈیفس سسٹم نے مقابلہ کر کے متعدد میزائلوں کو مار گرایا۔
اسلامی مزاحمتی گروہ نے غزہ سے مقبوضہ فلسطین ميں صیہونی آبادی پر متعدد میزائل داغے ہیں۔
بائیڈن نے دعویٰ کیا کہ قابض افواج کی جانب سے رفح کے خلاف مسلسل تیسرے دن بھی وسیع جارحیت جاری ہے، جس میں سرحدی کراسنگ کا کنٹرول حاصل کرنا اور اسے سروس سے باہر کرنا شامل ہے مگر پھر بھی واشنگٹن کے بہ اسرائیل نے"سرخ لکیریں" عبور نہیں کیں۔ امریکہ نے اس بات کو نظرانداز کردیا کہ رفح میں دس لاکھ سے زیادہ نہتے اور معصوم لوگ اسرائیلی جارحیت کی زد میں ہیں۔
یونیورسٹیوں میں فلسطین کی حمایت کے لئے اٹھنے والی صدائیں خاموش کرنے کی غرض سے، ان کے سربراہوں پر کئی مہینوں سے مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا تھا۔ دسمبر 2023ع میں امریکی کانگریس نے تین اہم امریکی یونیورسٹیوں کے سربراہوں کو بلایا اور ان کی بازخواست کی۔ یہ ایک متنازعہ سماعت تھی جس کے بعد ان تین میں سے ہارورڈ یونیورسٹی اور پنسلوانیا یونیورسٹی کے سربراہوں کو استعفی دینا پڑا۔
یدیعوت آحارونوت کے کالم نویس ناحوم برنیاع نے لکھا: مجھے رفح پر ممکنہ حملے کے بارے میں مزید وضاحت کی اجازت دیجئے: اس ہفتے "اسرائیلی" فوج نے فیصلہ کیا اس علاقے کو تیار کر دے جہاں 10 لاکھ بے گھر افراد کو بسایا جائے گا، یہ معلوم نہیں ہے کہ بے گھر افراد کی منتقلی کا کام ایک ہفتے میں مکمل ہوتا ہے یا ایک مہینے میں۔
عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت کا تجزیہ کار کہتا ہے: مقبوضہ سرزمین میں سب "یحیی السنوار" کے فیصلے کے منتظر ہیں، اور مجھے حکومت کے اندر کے ایک شخص نے بتایا کہ "رفح پر ممکنہ حملہ بالآخر ایک نمائشی اقدام ہی ہوگا