صہیونی اخبار کے کالم نویس نے لکھا: رفح پر مجوزہ حملہ ایک "اسرائیلی" مکر اور "اسرائیلی" دھوکہ ہے
تحریک حماس کا ایک وفد ایک بار پھر قاہرہ پہنچا ہے تاکہ جنگ بندی کے ممکنہ سمجھوتے کے لئے امریکی اور مصری تجاویز میں اصلاحات کے حوالے سے اپنی تجاویز ثالثوں تک پہنچا دیں۔
حماس کی قیادت کے ایک قریبی ذریعے نے سما خبرایجنسی کو بتایا: غزہ میں حماس کے قائد نے قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کے سلسلے میں اپنے مطالبات پیش کئے ہیں۔
یمن نے، غزہ پر صہیونی جارحیت کے جواب میں، صہیونی ریاست کے خلاف کاروائیوں کے چوتھے مرحلے کا اعلان کیا ہے۔
کلب نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ دو شہیدوں ڈاکٹر عدنان البرش اور اسماعیل خضر کے ساتھ اسرائیلی قابض فوج کی جیلوں اور کیمپوں میں تشدد کے جرائم کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے۔
غزہ میں صیہونی جارحیت میں ہونے والی تباہی اور اس کی تعمیر نو کے بارے میں اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔
صہیونی وزیر اعظم نے امریکی جامعات میں غزہ کے قتل عام پر احتجاج کے لئے امریکی جامعات میں شروع ہونے والی طلبہ تحریک کو سام دشمنی (Anti-semitism) قرار دیا تو امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے اس کا یہ الزام مسترد کرتے ہوئے کہا: یہ یہودیت کے خلاف احتجاج نہیں بلکہ غزہ میں اسرائیلی جرائم کے خلاف احتجاج ہے۔
ایسے موقع پر کہ حتی امریکی اور یورپی یونیورسٹیوں کے طلباء نے غزہ اور فلسطین پر ڈھائے جانے والے صہیونی جرائم کے خلاف عالمی تحریک کا آغاز کر دیا ہے، ایک باخبر اہلکار نے "مڈل ایسٹ نیوز" کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے "امریکہ ـ سعودیہ ـ اسرائیل" کے درمیان ایک سمجھوتے کو طشت از بام کر دیا ہے جو آخرکار ریاض اور تل ابیب کے درمیان باضابطہ اور اعلانیہ تعلقات کے قیام پر منتج ہوگا۔
ایک امریکی اخبار نے لکھا: طے یہ پایا تھا کہ اسرائیل امریکہ کے لئے تزویراتی سرمائے کا کردار ادا کرے لیکن اب یہ امریکہ کے لئے تزویراتی عذاب بن گیا ہے۔