افغانستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں امریکہ کے خلاف آزادی پسند اور حق کے متلاشی گروہوں کی برسوں کی جدوجہد کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ امریکہ فوجی، طاقت اور چالاکی کے ساتھ ممالک پر تسلط اور قبضہ جاری نہیں رکھ سکتا۔ وہ لامحالہ قوموں کی مرضی کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے اور اپنے اہداف و مقاصد سے بھی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
مجموعی طور پر امریکہ اور یورپ کے طاقتور ممالک جیسے فرانس اور برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کی حمایت واضح اور عیاں ہے۔ ایسے حالات میں انسان دشمن قوتوں کا اصل چہرہ پہچانا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، اس نکتے پر بھی توجہ ضروری ہے کہ غاصب صیہونی رژیم کی حمایت امریکی حکمرانوں کیلئے زندگی موت کی حیثیت رکھتی ہے۔
ہم عرب شہریوں اور مسلمانوں کیلئے انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ کچھ عرب ممالک یمنی مجاہدین کی جانب سے خون کا نذرانہ پیش کر کے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف انجام پانے والے اقدامات کو بے نتیجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنی سرزمین اسرائیل کی لاجسٹک سپورٹ کیلئے فراہم کرنے میں مصروف ہیں
اس ناامیدی کی وجہ یہ ہے کہ ان عرب حکمرانوں کا ضمیر مر چکا ہے۔ ہمارا ان سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ اپنی قوموں کی آواز سنیں جو فلسطینیوں کی خاطر مضطرب اور پریشان ہیں اور ان کی حمایت کا کھلم کھلا اظہار کر رہی ہیں۔ اردن کے عوام میں اس وقت شدید ہلچل مچی ہوئی ہے۔
آج حاج فلسطین ظاہری طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں ہے لیکن حاج فلسطین کی مقدس روح اور ان کے روحانی فرزند موجود ہیں جنہوں نے امریکہ کو ایک مرتبہ پھر 1982ء کی یاد تازہ کروا دی ہے۔ آج غزہ، شام، لبنان، عراق اور یمن میں سب کے سب عماد بن چکے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حد تک وحشی اور درندہ صفت حکمرانوں کے ساتھ کیسے پرامن انداز میں زندگی بسر کی جا سکتی ہے؟ صیہونی حکمران امریکہ اور یورپ کی مدد سے اہل غزہ کو ختم اور نابود کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی ڈیموکریٹ جماعت اپنی آبرو بچانے کے لئے ایک محدود کاروائی کرنا چاہتی تھی۔ ڈیموکریٹ انتظامیہ نے کل رات کی کاروائی کو وسیع اور کامیاب قرار دیا لیکن حریف ریپبلکنز نے اس کاروائی کو غیر اہم قرار دیا جو تاخیر سے انجام پائی ہے۔ امریکہ میں سابق برطانوی سفیر کم ڈاروچ (Kim Darroch) نے امریکہ میں موجودہ سیاسی اختلافات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے: امریکہ میں انتخابات کا سال ہے، چنانچہ ان کے لئے یہ کاروائی ناگزیر تھی کیونکہ بائیڈن انتظامیہ کمزوری نہیں دکھانا چاہتے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کی سربراہی میں موجودہ صیہونی کابینہ کیلئے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ تازہ ترین سروے رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مڈٹرم الیکشن منعقد ہونے کی صورت میں نیتن یاہو کی سربراہی میں حکمران اتحاد شکست سے روبرو ہو گی جبکہ اپوزیشن اتحاد کینسٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
فلسطین سے یمن تک اس اسلامی مزاحمتی بلاک نے اصول طے کیا ہے کہ غزہ پر جارحیت کی قیمت امریکا کو چکانا ہوگی اور یہ قیمت اسلامی مزاحمت عراق اور شام سمیت یمن اور لبنان اور غزہ میں وصول کر رہی ہے۔