غاصب صیہونی حکومت اسرائیل بڑی کامیابی سے امریکی حکومت کو اس جنگ میں گھسیٹ رہی ہے۔ اپنے تمام تر گناہوں میں امریکی حکومت کو برابر کا شریک کر رہی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ شاید غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کے سامنے بے بس ہے یا پھر جان بوجھ کر فلسطینی عوام کے خون سے ہاتھ رنگین کر رہی ہے۔
سات اکتوبر (طوفان الاقصیٰ) کے بعد سے اردن اور صہیونی ریاست کے تعلقات یہاں تک خراب ہو گئے ہیں کہ صہیونی ملکہ اردن کو مزید اپنی چھوٹی بہن نہیں سمجھتے اور یہ تعلقات 7 اکتوبر سے پہلے جیسے نہیں ہو سکیں گے۔
ایلان بابیح، جو انگلینڈ کی یونیورسٹی آف ایکسیٹر میں فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں اور یورپی مرکز برائے فلسطین اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں، صیہونیت کے خاتمے کے آغاز کی 5 نشانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں
جو کچھ اسرائیل حاصل کرنا تھا وہ تو نہیں کر سکا لیکن فلسطین کے جو موجودہ حالات ہے و ہ چیخ چیخ کر آواز دے رہے ہیں کہ یہاں ایک بڑا انسانی سانحہ رونما ہونے والا ہے تو حید کے پرستاروں کہاں ہو ہماری مدد کو آو اس سلسلہ سے بی بی سی کی تقریبا ایک ماہ قبل کی یہ رپورٹ قابل غور ہے : ’’
فاران: امریکہ نے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی حمایت اور دفاع کیلئے برطانیہ سے مل کر یمن کے خلاف بھرپور جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکی حکمرانوں نے دعوی کیا ہے کہ یمن پر فضائی حملوں کا مقصد غزہ جنگ کو خطے کی سطح تک پھیل جانے سے روکنا ہے لیکن ان […]
اولمرٹ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو بغیر کسی شک و شبہ اور کسی بھی طرح کے سیاسی حساب کتاب کو خاطر میں لائے بغیر Knesset (صیہونی حکومت کی پارلیمنٹ) کے آئندہ کے اجلاسوں میں اس بارے میں ٹھوس موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ تنازع کا اگلا مرحلہ فوری طور پر دشمنی کو روکنا اور اسیران (مردہ یا زندہ) کی واپسی نیز غزہ کے مستقبل کے بارے میں مصری ثالثی کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا ہے.
یمن کے حوثی مجاہدین نے اپنا مقصد بھی واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اصل مقصد غاصب صیہونی رژیم پر دباو ڈالنا ہے تاکہ وہ غزہ پر جاری ظالمانہ اقدامات روک دے۔
بنجمن نیتن یاہو یہ بھی جانتا ہے کہ اگر وہ امریکہ کی جانب سے پیش کردہ نام نہاد دو ریاستی راہ حل قبول کرتا ہے تو اس کا مطلب اسرائیل میں تمام دائیں بازو کی اور شدت پسند جماعتوں کی سیاسی موت ہو گا۔ اگرچہ یہ دو ریاستی راہ حل محض دھوکہ اور فریب ہے۔
اس پیغام کے جواب میں ایک صارف نے اس سے کہا کہ ان سے ان بیانات پر بین الاقوامی فوجداری عدالت میں پوچھ گچھ ہونی چاہیئے، لیکن قدس کے ڈپٹی میئر نے اس پیغام کا مذاق اڑایا اور لکھا کہ نازیوں کو مارنے پر ان سے کیوں پوچھ گچھ کی جائے۔