اسرائیل کے ساتھ حماس نے پہلی بار پنجہ آزمائی نہیں کی۔ برس ہا برس سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ 2021ء میں دونوں کے درمیان گیارہ دنوں تک مسلسل خوں ریز جنگ ہوئی، جو بالآخر صلح کے بعد ختم ہوگئی تھی۔ اس جنگ میں بھی اسرائیل کو ہر محاذ پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ اس بار حالات مختلف ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل فلسطینیوں کو امداد اور علاج کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن ظالم اپنے مظالم کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کا کہنا ہے کہ غزہ کے ہسپتالوں سے اسرائیل کی طرف سے زخمیوں اور زیرعلاج ہزاروں فلسطینیوں کی بے دخلی کا حکم سزائے موت کے مترادف ہے۔
غزہ کی پٹی پر قبضے کے نتیجے میں اسرائیل کے یورپی اتحادیوں کی طرف سے ممکنہ منفی ردعمل بھی سامنے آئے گا۔ بیشتر یورپی ممالک مغربی کنارے میں اسرائیل کی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قبضہ سمجھتے اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق غزہ کی پٹی کو فلسطینیوں کی ملکیت سمجھتے ہیں اور اس علاقے پر صیہونیوں کے قبضے کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس لیے یورپ کا غزہ پر قبضے میں تل ابیب کے ساتھ زیادہ تعاون ممکن نہیں ہوگا۔
جب آپ کسی سے اس کا گھر بار چھین کر اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دوگے تو کبھی تو وہ انتقام کے لئے اٹھے گا۔حالیہ کچھ دنوں میں بھی ایسا ہی ہوا برسوں سے صہیونی جارحیت کے چلتے لاشے اٹھانے والوں نے ایک بار تہیہ کر لیا کہ ہم بھی لاشیں اٹھوا سکتے ہیں سو اب جو کچھ ہے وہ سامنے ہے
ضیف کا ٹھکانہ کہاں ہے؟ کسی کو معلوم نہیں۔ ایک اسراٸیلی سکیورٹی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ ضیف حملے کی منصوبہ بندی اور اس کے انتظامی پہلوٶں میں براہ راست ملوث تھا۔ حماس کے ذراٸع کے مطابق طوفان الاقصیٰ کا فیصلہ حماس کے القسام بریگیڈ کے کمانڈر ضیف نے حماس کے معروف رہنماء یحیٰ سنوار کے ساتھ مل کر کیا تھا۔ ی
عراقی تجزیہ کار کے مطابق جیسا کہ موساد کے سابق سربراہ ”افراہیم حلی“ نے اردن کے بارے میں ایک بار کہا تھا کہ اس ملک کے تمام اہم ادارے بشمول سکیورٹی اور انٹیلی جنس سروسز تل ابیب کے ہاتھ میں ہیں۔ آج اردن کے حکمرانوں کے سامنے امریکہ اور تل ابیب کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور ان کے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے سوا اور کوٸی آپشن نہیں ہے اور قدرتی طور پر وہ امریکہ کی اس مہم جوٸی کا پہلا شکار ہوں گے۔
جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی وہ حسب روایت ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے پر واویلا مچاٸیں گے۔ ایران کے خطرے کا بھوت تو اب ان کے سر پر اس قدر سوار ہے کہ وہ اپنے سفرِ امریکہ سے پہلے یہ انکشاف کرچکے ہیں کہ اسراٸیل میں ان کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں ایران کا ہاتھ ہے۔
فاران تجزیاتی ویب سائٹ: غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے گرد گھیرا روز بروز تنگ سے تنگ تر ہو رہا ہے۔ آئے روز صیہونی غاصب ریاست کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صیہونی معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہوکر نابودی کی جانب تیزی سے سفر کر رہا ہے۔ یہی تقسیم کا منظر صیہونی سیاسی منظر […]
اہم بات یہ ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان موجودہ کشیدگی ٹیکنیک کی سطح پر ہے، حالانکہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو ہمیشہ امریکی صدور کی حمایت حاصل رہی ہے۔